شیرور (فکروخبرنیوز) مدرسہ رونق الاسلام شیرور کا سالانہ جلسہ بروز جمعرات بعد نمازِ عشاء مدرسے کے احاطے میں منعقد ہوا، جس میں طلبہ و طالبات نے نہایت دلچسپ اور اصلاحی پروگرام پیش کیے۔ ننھے بچوں نے حالاتِ حاضرہ کی مناسبت سے معاشرے میں پھیلی برائیوں کے ازالے پر اپنے پیغامات پیش کرتے ہوئے شریعت کی پابندی کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے امام و خطیب جامع مسجد منکی مولانا شکیل احمد ندوی نے بچوں کے ایمان کو مضبوط بنانے اور ان کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دینی تعلیم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید کا ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں، اور یہ اجر صرف پڑھنے والے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے والدین، اساتذہ اور اس کی تربیت میں حصہ لینے والے سبھی افراد کو اللہ تعالیٰ نوازتے ہیں۔
امام و خطیب مسجد احمد سعید بھٹکل مولانا جعفر ندوی نے حالاتِ حاضرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے میں شریعت پر عمل کرنا چنگاری کو ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف ہو گیا ہے۔ ایسے نازک حالات میں اگر ہم نے اپنی نسل کے دین کی حفاظت کی فکر نہ کی تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا مفتی عبدالنور فکردے ندوی نے کہا کہ موجودہ دور میں معاشرے میں برائیاں عام ہوچکی ہیں اور ہر شخص اس حقیقت سے واقف ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور اپنی زندگیوں کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی جدید تعلیم کے اثرات کے نتیجے میں نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات ایمان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے، اس لیے نوجوانوں کے ایمان کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے انہیں ایسا ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس میں وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں۔
جلسہ کی نظامت مہتمم مدرسہ مولانا بہاء الدین ندوی نے انجام دی، جب کہ دعائیہ کلمات پر پروگرام رات دیر گئے اختتام پذیر ہوا۔
