آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا‘:سپریم کورٹ کا رام مندر عطیہ چوری معاملہ پر فوری سماعت سے انکار

سپریم کورٹ نے ایودھیا رام مندر کا انتظام سنبھالنے والے ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کے فنڈز میں مبینہ غبن اور مالی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر فوری سماعت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کی سماعت اب موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کی جائے گی۔ عدالت نے جلد سماعت کے مطالبے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنی جلدی کیا ہے، آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔

یہ اہم ترین عرضی ایڈووکیٹ اجئے کمار رائے اور دنیش کمار یادو کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ رام مندر تعمیر اور اس کے انتظامات کے لیے جمع ہونے والے عطیات اور نذرانے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی مبینہ مالی خامیوں کی سی بی آئی کی زیر نگرانی ایک خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر گہرائی سے تحقیقات کرائی جائیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ رام مندر ٹرسٹ سے وابستہ فنڈز کے مبینہ غبن اور دیگر بے ضابطگیوں کی خبروں نے عوام، بالخصوص جذباتی طور پر وابستہ افراد میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مندر میں پیش کیے جانے والے نذرانے اور عطیات کی چوری کے الزامات سامنے آنے کے بعد مندر ٹرسٹ کی ہی درخواست پر اتر پردیش حکومت نے تیرہ جون کو ایک ریاستی خصوصی جانچ ٹیم تشکیل دی تھی جس میں لکھنؤ کے ڈویژنل کمشنر وجئے وشواس پنت، آئی جی پی کرن اور محکمہ مالیات کے خصوصی سکریٹری نیل رتن شامل ہیں۔

سپریم کورٹ میں داخل اس عرضی میں ریاستی حکومت کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور الزام لگایا گیا ہے کہ اتر پردیش حکومت کی ایس آئی ٹی نے کسی باقاعدہ ایف آئی آر یا مستقل مجرمانہ مقدمہ درج کیے بغیر ہی اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ عدالت نے اب اس معاملے کی جلد سماعت کی استدعا کو رد کرتے ہوئے اسے باقاعدہ سماعت کے لیے تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد ہی اس حساس معاملے پر قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔

شیئر کریں۔