دہلی: رام لیلا میدان کے اطراف انسدادِ تجاوزات کارروائی کے دوران جھڑپ، پانچ افراد حراست میں

دہلی کے مرکزی علاقے رام لیلا میدان میں واقع سید فیض الٰہی مسجد کے قریب انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب کچھ افراد کی جانب سے پولیس پر حملہ کیا گیا۔ واقعے کے بعد دہلی پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ کارروائی دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے عدالت کے احکامات کی تعمیل میں انجام دی جا رہی تھی، جس کا مقصد مسجد اور متصل قبرستان کے اطراف مبینہ تجاوزات کو ہٹانا تھا۔ اسی دوران اچانک مشتعل عناصر نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے پتھراؤ اور شیشے کی بوتلیں پھینکیں، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے، جس کے بعد ہجوم کو منتشر کر کے علاقے میں امن بحال کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد اضافی فورس تعینات کر دی گئی تاکہ کسی ناخوشگوار صورت حال سے بچا جا سکے۔

جوائنٹ کمشنر پولیس (سینٹرل) مدھو ورما نے بتایا کہ کارروائی سے قبل امن قائم رکھنے کے لیے مسجد انتظامیہ، امن کمیٹی اور شہری دفاع کے نمائندوں کے ساتھ متعدد نشستیں منعقد کی گئی تھیں اور واضح کیا گیا تھا کہ یہ کارروائی خالصتاً قانونی ہے۔ اس کے باوجود کچھ افراد نے جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا تشدد کسی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق پانچ افراد کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں نصب کیمروں کی ریکارڈنگ اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ دیگر ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔

پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں سرکاری اہلکاروں پر حملہ، فساد، جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنا اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔

دہلی میونسپل کارپوریشن کے ایک سینئر افسر نے وضاحت کی کہ کارروائی کے دوران سید فیض الٰہی مسجد کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ ان کے مطابق انسدادِ تجاوزات مہم دہلی ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے تحت انجام دی گئی، جس میں تقریباً 30 بلڈوزر، 50 ڈمپر اور 300 سے زائد اہلکار شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں اب حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔