مسلمانوں کے او بی سی ریزرویشن پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، اپوزیشن کا واک اوٹ


راجیہ سبھا میں پیر کے روز اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے لکشمن کے بیان پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب لکشمن نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کی حکومت والی کچھ ریاستیں ووٹ بینک کی سیاست کے تحت مسلمانوں کو او بی سی زمرے میں شامل کر کے ریزرویشن کے فوائد دے رہی ہیں۔

وقفہ صفر کے دوران دیے گئے اس بیان پر اپوزیشن نے فوری طور پر اعتراض کیا اور خاص طور پر مسلمانوں کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کو روکنے کے مطالبے پر شدید برہمی ظاہر کی۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف سماجی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کے لکشمن نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک، تمل ناڈو، مغربی بنگال، کیرالا اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں مسلمانوں کو او بی سی کے زمرے میں شامل کر کے ریزرویشن کا فائدہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بھی اس طرح کی پالیسیوں کے مخالف تھے۔ انہوں نے تمل ناڈو میں مسلمانوں کو ساڑھے تین فیصد ریزرویشن دینے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ او بی سی طبقے کے حقوق کے خلاف ہے اور سیاسی فائدے کے لیے پالیسیوں کو مسخ کیا جا رہا ہے۔

اس بیان کے جواب میں کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور بی جے پی کے مؤقف کو تضاد سے بھرپور قرار دیا۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود کئی مواقع پر مسلم برادریوں کے او بی سی ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انہوں نے 9 فروری 2022 کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی نے خود کہا تھا کہ گجرات میں مسلمانوں کی تقریباً 70 ذاتیں او بی سی زمرے میں شامل ہیں۔

یہ معاملہ نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر سیاسی کشیدگی کا باعث بنا بلکہ ملک میں ریزرویشن پالیسی اور اس کے دائرہ کار پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دے گیا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اسے ووٹ بینک کی سیاست قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن اسے سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کے حقوق کا معاملہ بتا رہی ہے۔

آخرکار ہنگامہ آرائی کے دوران اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا، جس کے بعد کارروائی متاثر ہوئی۔