آر ایس ایس تعلیمی نظام کی ‘اصل دشمن’: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی تند و تیز تقریر

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل پر بحث جاری تھی۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ایوان میں اپنے خیا لات کا اظہار کر رہے تھے کہ حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان شدید تکرار شروع ہو گئی، جس کے باعث راہل گاندھی اپنی تقریر مکمل نہ کر سکے اور ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔

ایوان میں اپنا موقف رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ سڑکوں پر اترنے والے طلباء کا غصہ یا احتجاج کسی نفرت پر مبنی نہیں تھا، بلکہ یہ اپنے مستقبل کو بچانے کی ایک معصومانہ اور لازمی کوشش تھی۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں بشمول بی جے پی پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی اس آواز کا احترام کریں۔ راہل گاندھی نے ایوان میں ایک طالبہ کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سچا طالب علم وہ ہوتا ہے جو عاجزی کے ساتھ نئے علم کو قبول کرتا ہے، لیکن موجودہ دور میں تعلیمی اداروں کو ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا گیا ہے جو خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور دوسروں کی بات سننے سے قاصر ہیں۔

حکومتی پالیسیوں پر تیر نشانہ سادھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام بے حد بے رحم اور مہنگا بنا دیا گیا ہے، جہاں امتحانات کے انعقاد پر تعلیمی بجٹ سے زیادہ رقم خرچ ہو جاتی ہے لیکن اس کے باوجود امتحانات کی شفافیت قائم نہیں رہ پاتی۔ انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کو تعلیمی نظام کا کیپچر کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وزارت تعلیم کو اصل میں آر ایس ایس چلا رہی ہے اور مرکزی وزیر تعلیم کا استعفیٰ محض ایک دکھاوا ہے، کیونکہ حقیقی کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے اس بیان پر ایوان میں شدید نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی ہوئی۔

راہل گاندھی نے مظاہرین طلباء پر ہونے والے پولیس تشدد اور پیلٹ گن کے استعمال کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے اس کارروائی کی براہ راست ذمہ داری مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر عائد کی اور ایوان میں ان کی غیر موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت یا وزیر داخلہ نے طلباء کے خلاف کوئی سخت حکم جاری نہیں کیا تو انہیں ایوان میں آ کر اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مبینہ طور پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہیں کے اشارے پر گولیاں چلائی گئیں۔

راہل گاندھی کے ان بیانات کے بعد ایوان میں حکمراں جماعت کی جانب سے شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ ہنگامے کے بعد لوک سبھا اسپیکر نے متنازعہ الفاظ کو ایوان کی کارروائی سے حذف کر دیا۔ تاہم معاملہ یہی ختم نہیں ہوا؛ مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی اور پھر اسپیکر کے پاس اپنا باضابطہ احتجاج درج کرایا۔ بعد ازاں کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال اور گورو گوگوئی نے بھی اسپیکر سے ملاقات کر کے راہل گاندھی کو تقریر مکمل کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر کے چیمبر میں بات چیت کے دوران کرن رجیجو نے واضح کیا کہ غیر ذمہ دارانہ الفاظ اور وزیر داخلہ پر سنگین الزامات کی وجہ سے جب تک راہل گاندھی معافی نہیں مانگیں گے، ایوان کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔

حکومتی موقف کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے بغیر کسی ثبوت کے ملک کے وزیر داخلہ پر انتہائی حساس نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں، جو ایوانی روایات کے خلاف ہے۔ دوسری جانب کانگریس پارٹی نے حکومت پر جمہوری حقوق اور اپوزیشن کی آواز دبانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طلباء پر ہونے والے مظالم اور پیپر لیک جیسے اہم قومی معاملے پر بات کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں قانون سازی اور عوامی مسائل پر بحث کے بجائے مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث اہم بلوں پر تفصیلی گفتگو متاثر ہو رہی ہے۔ طلباء کی تحاریک اور پیپر لیک کے معاملات پر سیاسی گرما گرمی نے پارلیمانی کارروائی کو مقفل کر کے رکھ دیا ہے۔

اس تنازع کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تلخی مزید بڑھے گی۔ اگرچہ اسپیکر نے ایوانی کارروائی کے ریکارڈ سے متنازعہ الفاظ ہٹا دیے ہیں، لیکن حکمراں جماعت کے معافی کے مطالبے اور اپوزیشن کے بائیکاٹ کے رویے کے باعث پارلیمانی بقیہ اجلاس میں مزید ہنگامہ آرائی متوقع ہے۔

لوک سبھا میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں طلباء کے مسائل اور پیپر لیک جیسے سنگین موضوعات پر تعمیری بحث کے بجائے سیاسی بیان بازی حاوی ہو چکی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایوان کی کارروائی کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلایا جائے اور عوامی مسائل کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے نکالا جائے۔

شیئر کریں۔