بہار کی راجدھانی پٹنہ میں اساتذہ بھرتی (ٹی آر ای 4.0) کے عمل کو جلد شروع کرنے کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں امیدواروں پر پولیس نے وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔ جمعہ کے روز ہونے والے اس احتجاج کے دوران پولیس کے لاٹھی چارج سے علاقے میں افراتفری مچ گئی اور کئی امیدوار شدید زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے اب ملک گیر سطح پر سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے، جس میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بہار کی نتیش-بی جے پی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہندوستان میں بے روزگاری ایک سنگین بیماری بن چکی ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ بہار اور اتر پردیش کے نوجوان بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب نوجوان اپنی ڈگریوں کی بنیاد پر روزگار کا مطالبہ کرتے ہیں، تو بی جے پی حکومت انہیں نوکری دینے کے بجائے لاٹھیوں سے نوازتی ہے۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ کانگریس ان مظلوم نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور بی جے پی کے جھوٹ کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق پٹنہ کے گاندھی میدان اور گردنی باغ کے علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں بی پی ایس سی اساتذہ بھرتی کے امیدوار جمع ہوئے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ بھرتی کے چوتھے مرحلے کا نوٹیفکیشن فوری جاری کیا جائے اور امتحانی عمل میں شفافیت لائی جائے۔ تاہم، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے جا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی امیدواروں کے سر پھٹ گئے اور متعدد کو چوٹیں آئیں۔
مقامی پولیس نے اس معاملے میں سخت کارروائی کرتے ہوئے طلبہ لیڈر دلیپ کمار سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حیران کن طور پر پولیس نے 5 ہزار نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، جن پر ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے اور امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ گرفتار طلبہ لیڈر دلیپ کمار کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جنہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے حق کی آواز اٹھانے والوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہار میں بے روزگاری ایک حساس مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور اس طرح کے واقعات نوجوانوں میں حکومت کے خلاف غم و غصے کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے بھی نہتے امیدواروں پر پولیس کے تشدد کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات فوری واپس لیے جائیں اور ان کے روزگار کے جائز مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔




