قربانی عبادت سے نام ونمود اور فخرو نمائش تک!

مفتی اشفاق قاضی

قربانی اسلام کے ان عظیم شعائر میں سے ہے جن کے ذریعے بندۂ مومن اپنے رب کے ساتھ تعلقِ وفا کو تازہ کرتا ہے، یہ صرف  ایک سالانہ مذہبی رسم کا حصہ نہیں بلکہ اطاعت، ایثار، محبتِ الٰہی اور تقویٰ کا ایسا عملی اظہار ہے جس سے انسان کے باطن کو قلبی سکون میسر ہوتا ہے، عید الاضحیٰ کے ایام میں جب دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانور قربان کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اس عظیم سنت کی تجدید کرتے ہیں جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی بے مثال اطاعت سے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا، اسلام کی ہر عبادت کی طرح قربانی کی بھی ایک ظاہری صورت ہے اور ایک باطنی حقیقت، ظاہری اعتبار سے جانور ذبح کیا جاتا ہے، گوشت تقسیم ہوتا ہے اور شعائرِ اسلام کا اظہار ہوتا ہے، لیکن اس عبادت کی اصل روح انسان کے دل میں پوشیدہ وہ کیفیت ہے جسے قرآنِ کریم نے ’تقویٰ‘سے تعبیر کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے سورۂ حج میں واضح فرما دیا کہ ’’نہ جانوروں کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس کے حضور وہ دل پہنچتے ہیں جن میں اخلاص، خوفِ خدا اور اطاعت کا جذبہ موجود ہو‘‘ ، یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے آج کے دور میں سب سے زیادہ فراموش کیا جا رہا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی قربانی کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے سب سے روشن مثال ہے،  ایک ایسا باپ جس نے عہد کہولت (بڑھاپے)میں اللہ سے دعائیں مانگ کر بیٹا حاصل کیا ہو، اس کے لیے اپنے ہاتھوں سے اسی بیٹے کو قربان کرنے کا حکم معمولی امتحان نہیں تھا، لیکن اللہ کے نبی نے اپنی خواہشات، جذبات اور طبعی محبتوں کو حکمِ الٰہی کے سامنے قربان کر دیا، اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز منظر وہ تھا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا کہ ’’آپ کو جو حکم ملا ہے اسے پورا کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے‘‘، باپ کی اطاعت اور بیٹے کی رضا و تسلیم کا یہ واقعہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ایک پیغام بن گیا کہ اللہ کی محبت جب دل میں جاگزیں ہو جائے تو پھر انسان اپنی سب سے محبوب چیز بھی اس کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا ، قربانی دراصل اسی روح کا نام ہے،  یہ صرف زبانی دعووں کا نام نہیں بلکہ عملی وفاداری کا متقاضی ہے، ایک مسلمان جب اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتا ہے تو اسے اپنے دل میں یہ احساس پیدا کرنا چاہیے کہ اگر میرے رب کا حکم ہو تو میں اپنی خواہشات، اپنے مفادات بلکہ اپنی عزیز ترین چیزوں کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، یہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور یہی قربانی کی اصل روح ہے۔

شیئر کریں۔