ماموں نظام الدین دامدا مرحوم کی یاد میں

 )بچھڑ کر بھی قریب ہیں (

9/ ذی قعدہ 1447 ہحری ، مطابق 27 اپریل 2026 عیسوی ، بروز پیر بعد نمازِ عشاء  کا وہ لمحہ ابھی تک ذہن ودماغ میں  ٹھہرا ہوا ہے، جب    رات اپنی خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھی تھی۔ فضا میں سکون تھا، مگر تقدیر شاید کسی اور فیصلے کی تیاری میں تھی۔ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب ڈاکٹر اسماعیل قاضیا کی آواز تھی، مگر اس آواز میں وہ مانوس اطمینان نہ تھا۔ لہجے کی کپکپاہٹ نے خبر سنانے سے پہلے ہی دل کو بے چین کردیا۔ "ماموں نظام الدین دامدا کی طبیعت بہت ناساز ہے”  ۔ یہ چند الفاظ  تھے، مگر یوں محسوس ہوا جیسے سکونِ شب کے شیشے پر کسی نے پتھر مار دیا ہو۔ ابھی دل اس خبر کو پوری طرح سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ موبائل اسکرین پر چھوٹی خالہ اور میری ساس کے پیغامات نمودار ہوئے۔ ہر لفظ میں فکر کی نمی تھی، ہر جملے میں بے بسی کی لرزش کہ "بھائی نظام  کی طبیعت زیادہ خراب ہے، زیرِ علاج ہیں، دعا کریں”

میں نے فوراً ان کے فرزند جناب نجیب دامدا سے رابطہ کیا۔ ان کی آواز میں امید بھی تھی اور بے بسی بھی۔ گویا انسان دعا اور تقدیر کے درمیان کھڑا ہو۔ پھر ان کے بڑے  داماد اور بھتیجے جناب زکریا دامدا سے بات ہوئی۔ ممبئی کے اسپتال کی تفصیلات، ڈاکٹروں کی کوششیں، دعاؤں کی درخواستیں، یہ سب کچھ سننے کے باوجود دل کے کسی گوشے میں انجانا خوف جاگ رہا تھا۔ انہی کے ساتھ اپنے برادرِنسبتی جاوید اختر سے رابطے میں دیر رات تک رہا۔ سب کی باتوں میں ایک ہی امید جھلک رہی تھی، کہ ان شاء اللہ ماموں جلد صحت یاب ہو جائیں گے، یہ بیماری بھی گزر جائے گی، اور زندگی اپنی معمول کی روانی میں لوٹ آئے گی۔ مگر رات جیسے جیسے گہری ہوتی گئی، تقدیر نے اپنا فیصلہ بھی قریب کر لیا۔ رات بڑھتی گئی، خاموشی گہری ہوتی گئی  اور پھر اچانک اپنے دوست  مولانا سلیم سدی باپا کی اطلاع نے  گویا دل کی دنیا اجاڑ دی  کہ ” ماموں نظام الدین دامدا اب اس دنیا میں نہیں رہے”

اب کیا تھا،   ایک لمحے کو یوں لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ سانسیں بوجھل ہوگئیں۔ الفاظ بے معنی لگنے لگے۔ زبان پر صرف یہی آیت جاری ہوسکی "إنّا لله وإنّا إليه راجعون” ۔واقعی، ہمارے سروں سے  ایک اور سایہ اٹھ گیا تھا۔ ایک اور چراغ بجھ گیا تھا۔ اور یادوں کے آسمان سے ایک روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگیا تھا۔

دنیا میں بے شمار رشتے ہوتے ہیں، مگر بعض رشتے محض خون کے نہیں ہوتے، وہ روح کے رشتے بن جاتے ہیں۔ ماموں اور بھانجے کا تعلق بھی انہی خوب صورت رشتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں شفقت بھی ہوتی ہے، دوستی بھی، بے تکلف محبت بھی اور خاموش دعاؤں کی ٹھنڈک بھی۔ بچپن کی عیدیں، گھر کی رونقیں، خاندان کی محفلیں، شفقت بھری نصیحتیں، بے ساختہ دعائیں… یہ سب یادیں جب دل کے دریچوں پر دستک دیتی ہیں تو انسان محسوس کرتا ہے کہ اصل دولت یہی رشتے تھے، یہی اپنائیت تھی۔

گزشتہ پانچ برسوں میں وقت نے میرے آنگن کے کئی چراغ بجھا دیے۔ میرے چھ ماموؤں میں سے چار سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے۔  اس بار ماموں نظام الدین کی جدائی نے دل کے کسی بہت گہرے گوشے کو ویران کردیا۔ شاید اس لیے کہ وہ صرف ایک بزرگ نہ تھے، بلکہ محبت، خلوص، حوصلہ اور تعلق کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔

اُن کے پھوپھی زاد بھائی مصدق ڈی ایف کے انتقال پر افسوس ظاہر کیا۔ وہ دھیرے لہجے میں حالات بتاتے رہے، مگر پھر اچانک اُن کی آواز میں ایک درد اُبھر آیا۔ جیسے دل کے کسی نہاں خانے سے کوئی سچ خود بخود لبوں پر آ گیا ہو۔ کہنے لگے: "بیٹا، آج کل ہم رشتوں کو پہچاننے اور نبھانے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔  پہلے جیسی محبتیں نہ وہ چاہتیں باقی ہیں، اب وہ پہلے سا خلوص اور وہ پاسداری کہاں رہی؟ حالاں کہ شریعت تو ہمیں رشتوں کو جوڑنے اور سنبھالنے کا حکم دیتی ہے۔

 یقینا یہ جملے سادہ تھے، مگر اُن میں ایک عمر کا تجربہ، ایک درد مند دل کی پکار اور ایک ٹوٹتے ہوئے معاشرے کا نوحہ پوشیدہ تھا۔ آج جب وہ ہم میں نہیں رہے، تو محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی یہ باتیں محض الفاظ نہ تھیں، بلکہ وہ زندگی کا آخری پیغام تھا ، جو وہ ہمارے لیے چھوڑ گئے۔ شاید وہ جانتے تھے کہ وقت کم ہے، اس لیے رشتوں کی اہمیت کا سبق دہرا گئے۔ یوں لگتا ہے جیسے ان کی آواز اب بھی فضا میں گونج رہی ہے، ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے، کہ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے، بلکہ احساس، وقت، توجہ اور قربانی سے جیتے جاتے ہیں۔

 آج اُن کی یاد میں آنکھیں نم ہیں، مگر دل میں ایک عہد بھی جاگ رہا ہے، کہ ہم اُن کے اس پیغام کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہم رشتوں کو پھر سے جوڑیں گے، اُن میں محبت کی سانسیں بھرنے کی کوشش کریں گے، تاکہ کل جب ہماری باری آئے، تو ہم بھی یہی کہہ سکیں کہ ہم نے تعلقات کی امانت کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔ ماموں جان چلے گئے، مگر اُن کی باتیں، اُن کا درد، اور اُن کا پیغام، اب بھی ہمارے درمیان زندہ ہے۔

ان کی شخصیت کا ایک دل آویز پہلو یہ بھی تھا کہ خاندان میں کوئی خوشی ہو، خصوصاً شادی بیاہ کی تقریب، تو ان کی شرکت گویا تقریب کی رونق سمجھی جاتی تھی۔ وہ محض شریک نہیں ہوتے تھے، بلکہ محفل میں محبت کی خوشبو بکھیر دیتے تھے۔ اور جب آتے تو وہ کبھی خالی ہاتھ نہ آتے۔ بچوں کے لیے تحفے، گھر والوں کے لیے سوغاتیں، اور سب سے بڑھ کر محبت سے بھرا دل، یہی ان کی اصل پہچان تھی۔ ان کی آمد سے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر جاتیں۔ ایسا لگتا جیسے گھر میں کوئی اپنا بزرگ سایہ دار درخت بن کر آگیا ہو۔

ماموں نظام الدین مرحوم کی شخصیت کا ایک نہایت روشن اور دل آویز پہلو ان کی ضیافت نوازی تھی، جو محض ایک عادت نہیں بلکہ ان کے خاندانی ورثے کی تاب ناک نشانی تھی۔ یہ وصف انہیں اپنے والدِ ماجد، ہمارے محترم نانا جناب عبدالقادر دامدا  ( بڈور باشا ) علیہ الرحمہ سے وراثت میں ملا تھا، جو اپنی سخاوت، کشادہ دلی اور قومی و ملی اداروں سے وابستگی کے سبب پورےمعاشرے میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھرانے کے اکثر افراد کو اس وصف سے نوازا، مگر ماموں جان میں یہ خوبی کچھ ایسی نمایاں تھی کہ ان کی پوری زندگی اس کی جیتی جاگتی تصویر بن گئی تھی۔

وہ زمانہ آج بھی یادوں میں سانس لیتا ہے جب مینگلور اور گوا وغیرہ سے براہِ راست پروازوں کی سہولت نہ تھی۔ خلیجی ممالک یا بیرونِ ملک سے آنے والے اکثر افراد بمبئی کے راستے سفر کرتے، اور ”  ماہم ۔ بمبئی”  میں واقع ماموں جان کی رہائش گاہ گویا مسافروں، رشتہ داروں اور اہلِ تعلق کے لیے ایک مستقل سرائے اور محبتوں سے آباد مہمان خانہ بنی رہتی۔ دن ہو یا رات، گھر میں مہمانوں کی آمدورفت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا۔ حیرت ہوتی تھی کہ اتنے ہجوم اور مصروفیت کے باوجود نہ کبھی ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار دکھائی دیتے اور نہ پیشانی پر شکن۔ بلکہ وہ خود نہایت محبت، خندہ پیشانی اور اپنائیت کے ساتھ مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہتے۔

یہی نہیں، ان کی مرحومہ اہلیہ محترمہ نجمہ صاحبہ بھی اس کارِ خیر میں ان کی بہترین رفیق تھیں۔ گھر کے تمام بچے بھی اسی محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھے تھے، اس لیے ہر آنے والا یوں محسوس کرتا جیسے وہ کسی اجنبی گھر میں نہیں بلکہ اپنے ہی کسی شفیق عزیز کے آنگن میں اتر آیا ہو۔ راقم نے یہ حسین منظر بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،  کہ دسترخوان بچھے ہیں، چائے کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے، مہمانوں کی باتوں سے محفل آباد ہے، اور ماموں جان اپنی مخصوص شفقت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ ہر ایک کی دلجوئی میں مصروف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض گھر اینٹ اور پتھر سے نہیں بلکہ محبت، سخاوت اور خدمت کے جذبوں سے تعمیر ہوتے ہیں، اور ماموں جان کا گھر انہی خوش نصیب گھروں میں سے ایک تھا۔

ماموں نظام الدین مرحوم نے اپنی زندگی کے بیاسی برسوں میں زمانے کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے۔ کاروباری مشکلات آئیں، قرضوں کے بوجھ نے گھیر لیا، حالات نے سخت امتحان لیا… مگر انہوں نے کبھی دیانت اور خودداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ جب کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچا تو انہوں نے جائیدادیں فروخت کردیں، مگر کسی قرض خواہ کا حق باقی نہ رہنے دیا۔ یہ ان کی شرافت، خوفِ خدا اور حقوق العباد کے احساس کی روشن مثال تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی صداقت کو ضائع نہ ہونے دیا۔ حالات بدلے، رزق میں کشادگی آئی، تجارت کو پھر عروج ملا، اور انہیں بیت اللہ کی حاضری نصیب ہوئی، فریضہ حج کی ادائیگی کی۔ واقعی، ان کی پوری زندگی صبر، توکل، دیانت اور استقامت کی ایک روشن داستان تھی۔

اندھیروں نے بہت کوشش کی دل بجھنے نہیں پایا
خدا کا نام تھا شامل، دیا جلتا ہی رہتا تھا

ماموں جان کی ایک بڑی خوبی حوصلہ افزائی تھی۔ وہ معمولی کوشش کو بھی غیر معمولی انداز میں سراہتے تھے۔ ان کے چند محبت بھرے جملے انسان کے اندر نئی توانائی پیدا کردیتے تھے۔ راقم نے ان کی اس محبت کو خاص طور پر اُس وقت محسوس کیا جب “ادارۂ فکر و خبر” کا قیام عمل میں آیا۔ نئے خواب، محدود وسائل اور طویل سفر۔ ایسے وقت میں عموماً تنقید زیادہ ملتی ہے، حوصلہ کم۔ مگر ماموں جان ان لوگوں میں تھے جو ہر علمی اور دینی کوشش کو ایک چراغ سمجھتے تھے۔ وہ دعائیں دیتے، شفقت بھرے جملے کہتے اور ایسی محبت سے حوصلہ بڑھاتے کہ تھکن بھی تازگی میں بدل جاتی۔ ان کے روزِ انتقال ہی اپنےمضمون میں مولانا عبد اللہ غازی دامدا ابو ندوی نے بھی  "ادارۂ ادب اطفال بھٹکل”  کے حوالے سے ان کی علم دوستی اور اہلِ قلم سے محبت کا نہایت خوب صورت تذکرہ کیا ہے۔ واقعی، ایسے لوگ بظاہر پس منظر میں رہتے ہیں، مگر حقیقت میں یہی لوگ قافلوں کے خاموش محسن ہوتے ہیں۔

ان کے اندر علم اور اہلِ علم کا احترام کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ “تم” کے بجائے “آپ” کہہ کر مخاطب کرتے۔ یہ محض لفظوں کا فرق نہیں تھا بلکہ ان کی تہذیب، تربیت اور دل کے احترام کا آئینہ دار تھا۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ عمر کے اعتبار سے وہ میری والدہ محترمہ سے صرف دو برس چھوٹے تھے، اس لحاظ سے وہ ہمارے لیے ایک بڑے بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن اس کے باوجود کبھی اپنے بڑاپے کا احساس دلانے کی کوشش نہ کی۔ وہ ہمیشہ محبت، احترام اور شفقت کے ساتھ پیش آتے۔ ان کی گفتگو میں ایسی شائستگی ہوتی کہ سامنے والا خود کو معزز محسوس کرنے لگتا۔ بعض لوگ عمر میں بڑے ہوکر بھی دلوں میں جگہ نہیں بنا پاتے، مگر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے اخلاق، احترام اور خلوص سے دلوں پر حکومت کرتی ہیں۔ ماموں جان بھی انہی میں سے تھے۔

انتقال کے تیسرے روز جب بمبئی  میں واقع انہی کی رہائش گاہ پر، بھٹکل مسلم جماعت بمبئی  کے ذمہ داران کے تعاون سے تعزیتی نشست منعقد ہوئی، تو ہم نے بھی آن لائن اس مجلس میں شرکت کی۔ وہ محفل بظاہر ایک تعزیتی اجتماع تھا، مگر حقیقت میں ماموں نظام الدین مرحوم کی محبتوں، خدمات اور حسنِ اخلاق کا ایک خاموش اعتراف بن گئی تھی۔ اس نشست میں رشتہ داروں سے لے کر جماعتی ذمہ داران اور قومی اداروں سے وابستہ شخصیات تک، ہر زبان پر ان ہی کا ذکر تھا، ہر دل ان کی یاد سے بھرا ہوا تھا۔

کوئی ان کی خندہ پیشانی کو یاد کررہا تھا، کوئی ان کی خیر سگالی اور ملنساری کا تذکرہ کررہا تھا، تو کوئی قومی و ملی اداروں کے لیے ان کی بے لوث خدمات اور خاموش تعاون کی داستان سنا رہا تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ایک شخص نہیں، بلکہ ایک پورا عہد رخصت ہوگیا ہو۔ ہر فرد کے جملوں میں عقیدت کی نمی تھی اور ہر آواز میں جدائی کا درد۔ خاص طور پر یہ احساس بار بار دل کو چھوتا رہا کہ ماموں جان نے اپنی زندگی میں رشتوں کو جوڑنے، دلوں کو قریب کرنے اور خاموشی کے ساتھ خیر کے کاموں میں حصہ لینے کا جو چراغ جلایا تھا، اس کی روشنی آج ان کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں باقی ہے۔

تعزیتی نشست کے دوران بھٹکل مسلم جماعت کے بعض ذمہ داران نے ایک نہایت معنی خیز اور دل کو چھو لینے والا واقعہ بھی بیان کیا، جو ان کی  بے نفسی، اخلاص اور عاجزی کا روشن آئینہ دار تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک دیڑھ ماہ قبل جماعت کی جانب سے یہ طے پایا کہ  ماموں جان کی قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں تہنیت پیش کی جائے اور باقاعدہ اعزاز سے نوازا جائے، مگر انہوں نے نہایت انکساری کے ساتھ اپنی ناسازِ صحت کا عذر پیش کرتے ہوئے اس اعزاز کو قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا انکار تھا، لیکن حقیقت میں یہی ان کے بلند اخلاق اور خالص نیت کی سب سے بڑی دلیل تھی۔

وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو خدمت کے بدلے ستائش کے طلب گار ہوں یا جنہیں شہرت اور اعزازات کی خواہش ہو۔ انہوں نے خاموشی کے ساتھ خیر کے کام کیے، لوگوں کے دل جوڑے، اداروں کا ساتھ دیا، مگر کبھی اپنے لیے نام و نمود کا طلب گار نہ بنے۔ یہی بے لوثی، یہی عاجزی اور یہی اخلاص دراصل ان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ تھا۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ دنیا میں ٹھکرایا گیا یہی اعزاز آخرت میں ان کے لیے ربِ کریم کے ہاں عزت، قبولیت اور اجرِ عظیم کا توشہ ثابت ہوگا۔

واقعہ یہ ہے کہ انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، مگر اس کے اخلاق، اس کی محبتیں، اس کی دعائیں اور لوگوں کے دلوں میں چھوڑا ہوا حسنِ سلوک دیر تک زندہ رہتا ہے۔ ماموں جان بھی انہی خوش نصیب انسانوں میں سے تھے جن کے جانے کے بعد ان کی یاد محض آنسو نہیں بلکہ دعاؤں کی صورت میں زندہ رہی۔ اللہ تعالیٰ ماموں نظام الدین مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کی تمام خدمات، محبتوں اور خیر خواہیوں کو صدقۂ جاریہ بنادے۔ آمین یا رب العالمین۔

شیئر کریں۔