کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے خواتین ریزرویشن اور حد بندی کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت خواتین کے حقوق کے نام پر مستقل اقتدار میں رہنے کی سیاسی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ ہفتہ 18 اپریل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے حکومت کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور یہ جمہوریت، آئین اور ملک کی جیت ہے۔
پرینکا گاندھی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی تقاریر سے حکومت کی نیت واضح ہو گئی تھی۔ ان کے مطابق حکمراں جماعت چاہتی تھی کہ اپوزیشن خواتین ریزرویشن کے نام پر بل کی حمایت کرے تاکہ بعد میں حد بندی کے عمل میں حکومت کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی مکمل آزادی مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بل منظور ہو جاتا تو بی جے پی اسے اپنی کامیابی قرار دیتی اور اگر مخالفت ہوتی تو اپوزیشن کو خواتین مخالف ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ خواتین ریزرویشن نہیں بلکہ حد بندی تھا۔ کانگریس رہنما کے مطابق حکومت ایسی حد بندی چاہتی تھی جس میں ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار کو نظر انداز کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس عمل کی حمایت نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس سے نمائندگی کے توازن پر اثر پڑ سکتا تھا۔
پرینکا گاندھی نے بی جے پی کے خواتین سے متعلق ریکارڈ پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خواتین اناؤ، ہاتھرس، خواتین پہلوانوں کے احتجاج اور منی پور کے واقعات کو بھولی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات میں حکومت نے موثر کردار ادا نہیں کیا، لیکن اب خود کو خواتین کا محافظ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں جو خواتین ریزرویشن بل اتفاق رائے سے منظور ہوا تھا، حکومت اسے فوری نافذ کرے۔ ان کے مطابق اگر حکومت سنجیدہ ہے تو ضروری ترامیم کے ساتھ اسے 2029 تک عملی شکل دی جائے، اپوزیشن اس کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اگر خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کیا جاتا ہے تو جس طرح درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے حصہ مقرر ہے، اسی طرح دیگر پسماندہ طبقات کے لیے بھی آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دیا جائے۔
پرینکا گاندھی نے عوام کو بیدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے لوگ اب محض تشہیر اور میڈیا مہمات سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ چکا ہے اور لوگ حقیقی کارکردگی کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو حکومت کو سیاسی دھچکا لگتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خواتین ریزرویشن اور حد بندی کا مسئلہ آنے والے برسوں میں قومی سیاست کا اہم موضوع بن سکتا ہے، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق پارلیمانی نمائندگی، سماجی انصاف اور انتخابی حکمت عملی سے ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان یہ محاذ آنے والے انتخابات سے قبل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔




