بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی آج ہفتہ کی رات 8:30 بجے قوم سے خطاب کریں گے۔ یہ خطاب ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے جب ایک روز قبل لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق اہم آئینی ترمیمی بل مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اپنے خطاب میں خواتین کوٹہ کے نفاذ اور پارلیمنٹ میں حالیہ سیاسی پیش رفت پر اظہار خیال کر سکتے ہیں۔
یہ خطاب اس وقت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ جمعہ کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا آئین کا 131واں ترمیمی بل ناکام ہو گیا تھا۔ اس بل کا مقصد خواتین ریزرویشن قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے قبل عملی شکل دینا تھا۔ حکومت نے اس کے لیے لوک سبھا کی نشستوں میں اضافے اور نئی حد بندی کی تجویز بھی پیش کی تھی۔
بل کے مطابق لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کو بڑھا کر 816 تک کیا جانا تھا تاکہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ریاستی اسمبلیوں اور یونین ٹیریٹریز میں بھی نشستوں میں اضافہ تجویز کیا گیا تھا تاکہ خواتین کو مناسب نمائندگی دی جا سکے۔
آئینی ترمیم ہونے کی وجہ سے اس بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری تھی۔ لوک سبھا میں ووٹنگ کے دوران 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں سے 298 نے حمایت کی جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ بل کو کامیابی کے لیے 352 ووٹ درکار تھے، مگر حکومت مطلوبہ تعداد حاصل نہ کر سکی۔
حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں پر خواتین ریزرویشن روکنے کا الزام عائد کیا، تاہم اپوزیشن نے اس موقف کو مسترد کر دیا۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن خواتین کوٹہ کی حامی ہے لیکن اسے حد بندی کے عمل سے جوڑنے کی مخالف ہے۔
راہل گاندھی نے تمل ناڈو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا اصل مقصد جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی کمزور کرنا تھا۔ ان کے مطابق بھارت ریاستوں کا اتحاد ہے اور ہر ریاست کو مساوی آواز اور اپنی زبان و ثقافت کے تحفظ کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی نے ملک کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف حکومت اسے خواتین کے حقوق کا معاملہ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن اسے سیاسی اور انتخابی حکمت عملی سے جوڑ رہی ہے۔
اب پورے ملک کی نظریں وزیر اعظم نریندر مودی کے آج رات ہونے والے خطاب پر ہیں، جہاں امکان ہے کہ وہ بل کی ناکامی، اپوزیشن کے مؤقف اور آئندہ حکومتی حکمت عملی پر اہم اعلان کریں گے۔




