منگلورو کے پیلیکولا چڑیا گھر میں بدانتظامی کے الزامات ، اگلی سماعت 25 مارچ کومنگلورو: منگلورو کے پیلیکولا بائیولوجیکل پارک میں جانوروں کے لیے مبینہ طور پر نامناسب حالات اور انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات کے معاملے پر مرکز نے کرناٹک ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ چڑیا گھر کی تجدید سے پہلے ان الزامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بات عدالت میں اس مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کے دوران سامنے آئی جو بامبے نیچرل ہسٹری سوسائٹی کے رکن بھون ایم کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ پارک میں کئی بنیادی نقائص موجود ہیں اور اس حوالے سے سنٹرل زو اتھارٹی کو دی گئی شکایات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
چیف جسٹس ویبھو بکھرو اور جسٹس ایم جی اوما پر مشتمل ڈویژن بنچ کو بتایا گیا کہ پیلیکولا بائیولوجیکل پارک کی جانب سے چڑیا گھر کے طور پر اپنی شناخت میں توسیع کے لیے دی گئی درخواست فی الحال زیر غور ہے۔
عدالت نے اس معاملے پر سخت ریمارکس بھی دیے تھے۔ جنوری میں سماعت کے دوران پٹیشن کے ساتھ منسلک ایک سانبر ہرن کی تصویر دیکھنے کے بعد بنچ نے کہا تھا کہ اگر جانوروں کی حالت واقعی ایسی ہے تو ریاستی حکومت کو اس زولوجیکل پارک کو بند کرنے پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
عرضی میں چڑیا گھر کے مختلف حصوں میں سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں زنگ آلود، ٹوٹے پھوٹے یا غیر محفوظ انداز میں نصب انکلوژرز شامل ہیں، جبکہ بعض مقامات پر انہیں مچھلی پکڑنے والے جالوں سے ڈھانپا گیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کئی مقامات پر انکلوژرز کے سائز کے کم از کم معیار کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، ویٹرنری سہولتیں ناکافی ہیں اور جانوروں کو آلودہ پانی کے ماحول میں رکھا جا رہا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل اشون جوائسٹن کوٹنہا نے عدالت کو بتایا کہ پارک میں موجود سبزی خور جانوروں کو دیے جانے والے چارے میں نائٹریٹ کی موجودگی کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ مرنے والے ایک جانور کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں چارے میں نائٹریٹ کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔
عرضی میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ سنٹرل زو اتھارٹی کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارک میں بعض جانوروں کو غیر مجاز طور پر لایا اور رکھا جا رہا ہے۔ وکیل کے مطابق انہیں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ پارک میں رکھے گئے بعض جانوروں کے حوالے سے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
پٹیشن میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ 2023 میں ضلعی انتظامیہ سے پارک کا انتظام کرناٹک کے محکمہ جنگلات کو منتقل کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ سنٹرل زو اتھارٹی کے معائنہ کے بعد کیا گیا تھا، تاہم درخواست کے مطابق اس کے بعد بھی پارک کے حالات میں بہتری کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔
سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے عدالت سے ہدایات حاصل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی جسے بنچ نے منظور کر لیا۔ عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت 25 مارچ کو مقرر کی ہے۔
