فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈانائو میں پیر کی صبح آنے والے ایک انتہائی طاقتور اور قیامت خیز زلزلے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے فوری بعد پورے خطے سمیت پڑوسی ملک انڈونیشیا اور جاپان تک سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی۔ فلپائن کے آفیشل ذرائع اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسیوں کے مطابق اس شدید قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک کم از کم پندرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں لاپتہ اور دو سو سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ زلزلے کے باعث متعدد کثیر المنزلہ عمارتیں، اسکول، ہسپتال اور شاہراہیں زمین بوس ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کا مرکز سارنگانی صوبے کے ساحل سے بتیس کلومیٹر دور سمندر میں تھا اور اس کی گہرائی تقریباً ۳۳ کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ منڈانائو کے سب سے بڑے شہر ‘جنرل سانتوس’ میں کئی تجارتی مراکز اور مشہور ریسٹورنٹ چند سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے دوران خوف و ہراس کے عالم میں اسکولوں کے بچے اور ملازمین عمارتوں سے باہر بھاگ رہے ہیں، جبکہ سڑکیں اور فلائی اوورز تاش کے پتوں کی طرح ہل رہے ہیں۔ زلزلے کے محض دو گھنٹے بعد اسی علاقے میں 6.1 شدت کا ایک اور بڑا آفٹر شاک محسوس کیا گیا، جس نے امدادی کاموں میں مصروف عملے اور پناہ گزینوں میں دوبارہ خوف و ہراس پھیلا دیا۔
زلزلے کے فوراً بعد فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیزمولوجی (PHIVOLCS) نے ساحلی علاقوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے سمندری لہروں کے ایک میٹر سے زائد بلند ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعد نو صوبوں کے ساحلی اضلاع سے تقریباً دس ہزار سے زائد خاندانوں کو فوری طور پر محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا۔ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیف آپریشن شروع کرنے اور متاثرین کے لیے پناہ گاہیں قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ صدر نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ساحلی پٹی خالی کر دیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
اس تباہ کن زلزلے کے اثرات پڑوسی ممالک پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ انڈونیشیا کی موسمیاتی ایجنسی نے بورنیو اور سلیویسی جزائر کے لیے سونامی کی ایڈوائزری جاری کی ہے، جہاں تین میٹر تک بلند لہریں ساحلوں سے ٹکرانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جاپان نے بھی اپنے بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں میں الرٹ جاری کرتے ہوئے کشتیوں اور بحری جہازوں کی آمد و رفت کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ فلپائن میں موجود بھارتی سفارت خانے اور امریکی قونصل خانے نے اپنے شہریوں کے لیے ہیلپ لائن نمبرز جاری کیے ہیں اور انہیں متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فلپائن جغرافیائی طور پر بحرالکاہل کے ‘رنگ آف فائر’ پر واقع ہے، جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت کے باعث زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے کے واقعات عام ہیں، لیکن حالیہ زلزلہ گزشتہ چند سالوں کا سب سے شدید ترین جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔
آفیشل مانیٹرنگ ایجنسیوں کے مطابق اب تک دو سو سے زائد چھوٹے بڑے آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے متاثرہ اضلاع میں اسکولوں، کالجوں اور کاروباری مراکز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔ جنرل سانتوس ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت کو بھی جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے تاکہ رن وے اور کنٹرول ٹاور کی تکنیکی جانچ کی جا سکے۔ ہسپتالوں کے اندرونی حصوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے کھلے میدانوں میں عارضی کیمپ لگا کر زخمیوں کا علاج شروع کر دیا ہے، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔




