2025 – 1953
محمد ناصر سعید اکرمی
(ایڈیٹر نقوش طیبات، معہد الامام حسن البنا بھٹکل)
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ورپیدا
۲۲/ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۴/دسمبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار صبح کی اولین ساعتوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے یہ اندوہناک خبر ملی کہ حضرت مولاناپیر ذوالفقار صاحب نقشنبدی ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے ، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون،’’إنّ للّٰہ ماأخذ ولہ ماأعطیٰ وکل شیٔ عندہ بأجل مسمّٰی‘‘۔
یہ خبر جانکاہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی ، جس نے بھی حضرت کے انتقال کی خبر سنی وہ غم وحزن میں مبتلا ہوا، حضرت کے خلفاء وچاہنے والے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ، ان میں علماء بھی ہیں ، مفتیان بھی ، ڈاکٹر س وانجینئر س بھی ہیں ، عوام وخواص بھی ، سب کو حضرت کی وفات سے سخت ٹھیس پہنچی ، اس لیے کہ لوگ حضرت سے علمی وروحانی استفادہ کررہے تھے ، تصوف وسلوک کے مدارج طے کرنے میں منہمک ومشغول تھے کہ اچانک حضرت کے چلے جانے سے یہ خلاپیداہوا، اس دورقحط الرجال میں حضرت کی ذات اس امت مرحومہ کے لیے ایک بڑی نعمت تھی ، حضرت کی شخصیت ایک فرد نہیں بلکہ ایک انجمن کی تھی ، آپ علم وعمل کی جامعیت کا بہترین نمونہ تھے ، ایک طرف آپ تشنگان علم کے لیے لڑکوں اورلڑکیوں کے متعدداسکول اوردینی مراکز قائم کئے ہوئے تھے ، اوربیسیوں مراکز دینیہ کی سرپرستی کررہے تھے ، تودوسری طرف لوگ اخلاقی وروحانی وتربیت نفس کے لیے آپ کی طرف رجوع کئے ہوئے تھے، اپنے ہی علاقے جھنگ (پاکستان) میں ’’معہد الفقیر الاسلامی‘‘ کے نام سے ایک عظیم مدرسہ قائم کیا ، جہاں مختلف علاقوں کے طلبہ علم دین کے حصول میں منہمک ومشغول ہیں ، اوراب تک ہزاروںطلبہ اس مدرسہ سے فارغ ہوکر دنیا بھر میں پھیل کر علم کی ترویج میں لگے ہوئے ہیں ۔
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل
وہ دکان اپنی بڑھا گئے
دنیامیں ہزاروں کی تعداد میں لوگ مرتے ہیں ، موت ہر ایک کے لیے مقدر ہے ، کسی کی وفات پر اس کے محلے والے اوراہل تعلق ماتم کناں ہوتے ہیں تو کسی کے رخصت ہونے سے پوراملک ماتم کدہ بن جاتاہے ، اسی طرح بعض اہل علم وفضل کی جدائی اور مفارقت پر پورا عالم سوگوارہوجاتاہے ، انہی جیسے اصحاب فضل وکمال کے بارے میں شاعر امرؤ القیس کایہ شعر صادق آتاہے ۔
وماکان قیس ہلکہ ہلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تھدما
یعنی قیس کی ہلاکت ایک شخص کی ہلاکت نہیں ہے بلکہ اس کی ہلاکت نے قوم کی بنیادوں کوہلاکر رکھ دیا۔
صدیوں میں حضرت جیسے لوگ دنیامیں پیداہوتے ہیں جن سے دنیامستفید ہوتی ہے ، ان کی زندگی کااولین مقصد دین کی سربلندی و سرفرازی ہوتا ہے۔
مری زندگی کامقصد ترے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں ، میں اسی لیے نمازی
پیدائش
آپ کی پیدائش اپریل ۱۹۵۳ھ میں صوبہ پنجاب ،پاکستان کے ایک علاقے جھنگ میں ہوئی ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں ہوئی ۔
اعلیٰ تعلیم
حضرت کے گھروالے ان کوڈاکٹر اورانجینئر بناناچاہتے تھے ،اسی لیے ان کوعصری علوم کے حصول کے لیے اسکول میں داخل کیاتھا، جب کہ حضرت کوعلم دین کے حصول کاشوق تھا، لیکن گھر والے بضد رہے کہ آپ کو عصری علم پڑھ کر انجینئر بنناہے ،یہی وجہ رہی کہ حضرت ذوالفقارنقشبندی کی تعلیم عصری اسکولوں اورکالجوں میں ہوئی ،اور وہاںکئی عصری کورس کیے ، آپ نے B.S.Cالیکٹرکل انجینئر کی ڈگری حاصل کی،اوراسی شعبے سے وابستہ ہوگئے ، آپ نے اپنے فن میں ایسا کمال پیداکیاکہ لوگوں نے آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا، جس کمپنی میں آپ کام کررہے تھے اس میں آپ کی ماہانہ تنخواہ تیس لاکھ تھی ،لیکن آپ نے یہ طے کرلیاتھاکہ اپنی عمر کے چالیس سال کے بعد کلی طورپر خود کو دین کے لیے وقف کروں گا، اورآپ نے ایسا کرکے دکھلایا۔
دینی رجحان
حضرت مولانا پیر ذوالفقار نے اپنی تعلیم کاآغاز دینیات ،فارسی اورعربی کتابوں سے کیا، قرآن پاک کو حفظ کیا جب آپ لاہور یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے ،اسی وقت آپ کاتعلق اس وقت کے عالم دین ، کتاب’’ عمدۃ الفقہ‘‘ کے مؤلف حضرت سید زوارحسین شاہ جونقشبندی سلسلے کے ایک صاحب نسبت بزرگ تھے سے ہوا، ان سے حضرت نے’’ مکتوبات مجددالف ثانی ‘‘سبقا سبقا پڑھی ، ان سے علمی وروحانی استفادے کیے ،ان کی وفات کے بعد آپ خواجہ حبیب نقشبندی مجددی سے رجوع ہوئے اوران سے بیعت بھی ہوئے اور ان کے دامن سے کلی طورپر وابستہ ہوئے ،حضرت مجددی نے آپ کو اپنے حلقہ ٔ خلافت میں شامل کیا،حضرت پیر صاحب مرحوم کو ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی سنداسی طرح جامعہ رحمانیہ اور جامعہ قاسم علوم سے بھی حدیث کی سندیں دی گئیں۔
حضرت دنیاوی جھمیلے سے نکل کریکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت میں لگنا چاہتے تھے، حضرت نے طے کر لیا تھا کہ ۴۰؍ سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد اس کام میں لگ جاؤں گا ،اس کے لیے آپ نے دنیا کوٹھکرایا، دنیا کے ٹھاٹ باٹ سے کنارہ کشی اختیار کی،ماہانہ بڑی تنخواہ ۳۰/ ۴۰لاکھ سے زیادہ ہوتی تھی چھوڑ دی، اپنے مرشد کی وفات کے بعد حضرت پوری طرح دین کے لیے وقف ہو گئے،امریکہ میں کئی سال گزارے، لڑکوں اور لڑکیوں کو دینی تعلیم دی اور کئی دینی ادارے قائم کر کے اپنے بچوں ہی کو ان اداروں کا ذمہ داربنادیا،تبلیغی ودعوتی اور اصلاحی سفر شروع کیے، ۵۰ سے زائد ملکوں کا سفر کیا،نوجوانوں اور تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہنوں اور فکروں کو دین پر ڈال دیا،ان کو نمازوں کا پابنداورسنن و مستحبات کا شیدائی بنادیا،رمضان میں اعتکاف، اذکار، تلاوت قرآن کا عادی بنایا، رمضان کی ابتدائی عشروں میں زیمبیا افریقہ اعتکاف ہوتا، اور آخری عشرہ مکہ یا مدینہ میں اعتکاف ہوتا،اوروہاںاعتکاف میں شیوخ اورعلماء اور پڑھالکھا طبقہ موجود ہوتا،ہر سال حج کے ایام میں لوگوں سے ملاقاتوں کا اہتمام ہوتا مجلسیں لگتیں، لوگ آپ کی مجلسوں سے استفادہ کرتے۔
ہندوستان آمد
حضرت مولانا پاکستان میں جھنگ کے رہنے والے تھے، سن ۲۰۱۱ء میں ہندوستان کا بھی حضرت کا سفر ہوا تھا، آپ حیدرآباد،بنگلور،لکھنو،دارالعوم دیوبند،دارالعلوم وقف دیوبند وغیرہ دیگر مقامات میں آپ کے پروگرام ہوئے،ہر جگہ سامعین کا جم غفیر تھا،مردوں کے علاوہ عورتیں بھی ایک بڑی تعداد میں حاضر ہوئیں،لوگ آپ کے بیانات سننے کے لیے بے تاب رہتے، اللہ تعالی نے آپ کی زبان میں تاثیررکھی تھی، آپ کی باتیں لوگوں کے دلوں میں اتر جاتیں،ہندوستان کا آپ کا سفر ہر اعتبار سے کامیاب رہا، آپ کے خطابات کالج کے نوجوانوں، ڈاکٹروں، وکلا وغیرہ کے درمیان ہوئے آپ نے ان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی، دنیا کی بے ثباتی اوربے وفائی کو ان پر واضح کیا اور آخرت کی دائمی زندگی کی طرف ان کو ابھارا، بالخصوص نوجوانوں کو ان کی بے راہ روی اور عیش و عشرت کی زندگی کو چھوڑنے اور ایک اللہ کی عبادت اور اس کی بندگی کی طرف خصوصی توجہ دلائی اور اپنے بیان میں اس حدیث کی طرف اشارہ کیا جس میں یہ ارشاد ہے کہ وہ نوجوان جو اپنی جوانی کو اللہ کی عبادت میں گزارتا ہے تو وہ قیامت کے دن اللہ کے سائے میں ہوگا جس دن کہ لوگ گرمی اور تپش سے پریشان حال ہوں گے۔
وفات
حضرت کے گردے خراب ہونے کی وجہ سے ڈائلسس کے مراحل سے گزر رہے تھے،اسی تکلیف اور پریشانی میں کئی ماہ رہے،آخر کار یہی بیماری آپ کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی اورمؤرخہ ۲۲/ جمادی الثانی ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۴/ دسمبر ۲۰۲۵ء کی صبح اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔
تصنیفات
حضرت کے قلم سے بہت سی تصنیفات اور کتابیں شائع ہوئی ہیں،ان میں بعض کتابیں آپ کے بیانات و ارشادات کے مجموعے ہیں جن کو حضرت کے چاہنے والوں نے جمع و مرتب کیاہے۔
حضرت کی بعض کتابیں ہمارے بھٹکل( کرناٹک )کے ایک صاحب خیر ’’کولا محمد مظفر صاحب مرحوم‘‘نے اپنے صرفے سے شائع کر کے مدرسوں کتب خانوں اور دیگر دینی مراکز میںمفت تقسیم کی تھیں۔( فجزاہ اللہ أحسن الجزاء)
آپ کی کتابوں کے چند نام یہ ہیں زاد حرم، اولاد کی تربیت کے سنہرے اصول، خواتین کے کارنامے، حیا اور پاک دامنی،مغفرت کی شرطیں، اسیر برما، عشق الٰہی، دوا ئے دل، عشق رسول، خطبات فقیر (یہ کئی جلدوں میں ہے)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ پاک حضرت کی مغفرت فرمائے اور جنت میں درجات عالیہ سے نوازے اور دنیا میں ان کے مشن کو ان کے وارثین کے ذریعے صحیح نہج پر چلانے کی توفیق دے اور اللہ پاک ایسے نیک لوگوں کو امت کی رہبری کے لیے وجود بخشتا رہے۔
