جموں و کشمیر کے ریونیو سروسز میں اردو کو لازمی زبان کی حیثیت سے ہٹائے جانے کے خلاف اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے سرینگر میں شدید احتجاج کیا ہے۔ حکومت کے اس حالیہ فیصلے پر پی ڈی پی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے اور ریاستی شناخت کے تحفظ کے لیے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاج کی قیادت کرنے والی پی ڈی پی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریونیو محکمے سے اردو کو ہٹانا خطے کی ثقافت اور مذہبی شناخت پر براہ راست حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو زبان جموں و کشمیر کے مختلف خطوں اور متنوع آبادی کو آپس میں جوڑنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہے اور اس کے خاتمے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر التجا مفتی نے موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو عوام نے اپنی ثقافت اور شناخت کے تحفظ کا مینڈیٹ دیا تھا، لیکن وزیر اعلیٰ اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل ہو کر میراتھن دوڑنے میں مصروف ہیں۔
اردو زبان کی جموں و کشمیر میں ایک طویل اور تاریخی حیثیت رہی ہے۔ ایک صدی سے بھی زائد عرصے تک اردو کو ریاست کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل رہا ہے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ کے دور حکومت میں فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان قرار دیا گیا تھا اور اسی دور سے تمام ریونیو ریکارڈ اردو ہی میں مرتب اور محفوظ کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ برس چودہ جولائی دو ہزار پچیس کو سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل نے ایک فیصلے میں ریونیو امتحانات میں اردو کی لازمی حیثیت کی شرط کو ختم کر دیا تھا۔ یہ معاملہ ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا تھا جس کے پیچھے بنیادی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہم خیال تنظیموں کا مطالبہ شامل تھا۔
حکومت کے اس تازہ ترین اقدام نے وادی میں ایک نئے سیاسی تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس جیسی مقامی سیاسی جماعتیں اس معاملے پر سراپا احتجاج ہیں اور عوامی سطح پر بھی اس حوالے سے بے چینی پائی جا رہی ہے۔ لسانی اور ثقافتی شناخت کے اس حساس مسئلے پر سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکمران جماعت نیشنل کانفرنس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے۔
واضح رہے کہ دس اپریل کو ریونیو محکمے نے جموں و کشمیر ریونیو سروسز نان گزیٹڈ کے لیے بھرتی قوانین کا نیا مسودہ جاری کیا ہے، جس میں اردو کو لازمی زبان کی فہرست سے باقاعدہ طور پر نکال دیا گیا ہے۔ محکمے نے اس مسودے پر پندرہ دن کے اندر عوام اور متعلقہ حلقوں سے اعتراضات طلب کیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد حکومت ان قوانین میں کوئی تبدیلی لاتی ہے یا پرانے فیصلے پر ہی قائم رہتی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی احتجاج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔




