مہاراشٹر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے یو اے پی اے قانون پر گہری تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون 2008 میں کانگریس حکومت کے دور میں لایا گیا تھا اور پارلیمنٹ میں اسی وقت خبردار کیا تھا کہ اسے مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ اویسی نے مثال دی کہ اس قانون کے تحت 180 دن تک بغیر جوڈیشل ریمانڈ کے حراست میں رکھا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ اروندھتی رائے جیسے شخصیات کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
اویسی نے دہلی دنگوں کے مقدمات میں قید عمر خالد اور شرجیل امام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمر خالد کو یو اے پی اے کے تحت صرف دو بار جیل سے باہر نکلنے دیا گیا، جن میں سے ایک موقع اس کی بہن کی شادی تھا۔ انہوں نے ایک تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق دہلی میں 80 فیصد معاملات میں پولیس فوری طور پر مسلمان ملزم کو دہشت گرد قرار دے دیتی ہے۔ اویسی نے موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ یہ قانون اقلیتوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران اویسی نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سرما نے کہا تھا کہ آئینی طور پر تو کوئی بھی وزیراعظم بن سکتا ہے، لیکن ہندوستان ہندو راشٹر ہے اور وزیراعظم ہمیشہ ہندو ہی ہوگا۔ اویسی نے ردعمل میں کہا کہ “ان کے دماغ میں ٹیوب لائٹ جلتی ہے” اور پوچھا کہ آئین میں ایسا کہاں لکھا ہے جس کی قسم انہوں نے کھائی ہے۔
اویسی نے واضح کیا کہ پاکستان کے آئین میں ایک مخصوص طبقے کے لیے اعلیٰ عہدوں کی پابندی ہے، لیکن بھارت کا آئین بابا صاحب امبیڈکر نے دیا جو برابری پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ آئین کے جذبات نہیں سمجھتے اور یہ ملک صرف ایک طبقے کا نہیں بلکہ سب کا ہے۔ ہیمنت بسوا سرما پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ “اس کا دماغ چھوٹا ہے، اس لیے چھوٹی باتیں کرتا ہے”۔
یہ بیانات سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دیں گے جہاں یو اے پی اے کی اصلاحات اور آئین کی روح پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
