نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی نے معروف ہندی نیوز چینل آج تک کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے سینئر صحافی سدھیر چودھری کے ایک متنازع پروگرام میں ترمیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس شو میں تاریخی عمارت تاج محل کو مبینہ طور پر ایک ہندو مندر قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام صحافتی غیر جانبداری اور غیر متعصبانہ رپورٹنگ کے بنیادی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔
یہ تنازع انتیس نومبر دو ہزار چوبیس کو نشر ہونے والے پروگرام بلیک اینڈ وائٹ سے متعلق ہے۔ اس قسط میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلم حکمرانوں نے مبینہ طور پر ہندو مندروں کو تباہ کیا اور تاج محل دراصل ایک ہندو مندر تھا۔ این بی ڈی ایس اے کے چیئرپرسن جسٹس اے کے سیکری نے اپنے تفصیلی حکم نامے میں کہا کہ چینل نے قطب مینار کے حوالے سے تو محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا لیکن تاج محل پر بحث کے دوران جان بوجھ کر اسی طرح کی سرکاری دستاویزات کو نظر انداز کر دیا تاکہ ایک مخصوص اور یک طرفہ بیانیہ تیار کیا جا سکے۔
اس سے قبل دسمبر دو ہزار چوبیس میں ریگولیٹری باڈی نے اس معاملے میں چینل کو کلین چٹ دی تھی اور کہا تھا کہ ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پروگرام نے ایک خاص کمیونٹی کے خلاف جانبدارانہ بیانیہ کو فروغ دیا ہے اور تاج محل کے حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے مسترد شدہ دعووں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹی وی ٹوڈے نیٹ ورک نے اپنے دفاع میں اسے ایک دستاویزی طرز کی پیشکش قرار دیا تھا جس میں مختلف کتابوں اور ذرائع کا حوالہ دیا گیا تھا۔
اتھارٹی کے اس فیصلے کو میڈیا میں تاریخی عمارتوں اور مسلم تشخص کے خلاف چلائی جانے والی مہمات کی روک تھام کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس حکم نامے سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ نیوز چینلز کو حساس تاریخی اور مذہبی معاملات میں سرکاری حقائق کے برعکس من گھڑت دعوے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس سے شفاف اور غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کو دوبارہ نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔
اب آج تک انتظامیہ کو اس مخصوص قسط کے ان حصوں کو ہٹانا یا ان میں ترمیم کرنی ہوگی جن میں تاج محل سے متعلق گمراہ کن دعوے کیے گئے تھے۔ تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، یوٹیوب اور ویب سائٹس سے بھی اس مواد کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔ دوسری جانب یہ فیصلہ مستقبل میں نیوز رومز کے اندر تاریخی مقامات پر غیر ذمہ دارانہ بحث کرنے والے اینکرز کے لیے ایک قانونی نظیر کے طور پر بھی کام کرے گا۔
حقائق پر مبنی رپورٹنگ ڈیجیٹل صحافت کی بنیادی ضرورت ہے۔ کسی بھی تاریخی ورثے کے بارے میں سنسنی خیز اور بے بنیاد دعوے نہ صرف معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ صحافتی اقدار کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے ریگولیٹری فیصلے مین اسٹریم میڈیا کو ذمہ دارانہ اور متوازن طرز عمل اپنانے پر مجبور کرتے ہیں۔




