ایس آئی آر معاملہ : الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی ملی بھگت؟ انڈیا اتحاد کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہنگامی خط

ملک کی 23 بڑی اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں ووٹر لسٹوں کی تیاری اور ان کی خصوصی نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کے عمل پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ معلومات کے مطابق اس خط میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کردار اور اس کی جانبداری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کر کے انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

تنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگریکا گھوش نے میڈیا کو بتایا کہ اپوزیشن نے عدلیہ سے اس پورے معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے اس حساس عمل کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن اس عمل میں مبینہ طور پر جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس خط کو لکھنے کا فیصلہ گزشتہ 8 جون 2026 کو منعقدہ انڈیا اتحاد کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس پر اب تمام جماعتوں نے دستخط کر کے اسے چیف جسٹس کو بھیج دیا ہے۔

اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) اور عام آدمی پارٹی (آپ) نے، جنہوں نے 8 جون کو ہونے والے انڈیا اتحاد کے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، انہوں نے بھی اس خط پر اپنے دستخط ثبت کیے ہیں۔ ٹی ایم سی کے رہنما ڈیریک او برائن نے تصدیق کی ہے کہ اتحاد سے باہر کے ایک آزاد رکن پارلیمنٹ نے بھی اس احتجاج کا حصہ بنتے ہوئے خط پر دستخط کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اپوزیشن کے لیے کس قدر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھارگے نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ وہ ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی آڑ میں ہونے والی "ووٹوں کی لوٹ مار” اور "انتخابات کی چوری” کے خلاف سپریم کورٹ کے سامنے آواز اٹھائیں گے۔

ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج کا یہ تنازع مغربی بنگال کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس اور اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے جن سیٹوں پر کامیابی حاصل کی، ان میں سے آدھی نشستوں پر ووٹر لسٹوں سے نکالے گئے ناموں کی تعداد بی جے پی کی جیت کے مارجن سے کہیں زیادہ تھی۔ رپورٹ کے مطابق 6 اپریل تک تقریباً 91 لاکھ ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا چکے تھے، جو کہ کل ووٹرز کا 11.9 فیصد بنتا ہے۔ انتخابات سے قبل ان فیصلوں کے خلاف تقریباً 34 لاکھ اپیلیں ٹریبونلز کے سامنے زیر التوا تھیں۔

اگرچہ سپریم کورٹ نے 27 مئی کو چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں ایک سماعت کے دوران ووٹر لسٹوں کی اس خصوصی نظرثانی کو قانونی طور پر درست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ عمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے، تاہم عدالت نے الیکشن کمیشن کو یہ سخت وارننگ بھی دی تھی کہ فہرستوں میں نام شامل کرنے یا نکالنے کی آڑ میں کمیشن کسی بھی شخص کی شہریت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اپوزیشن اب اسی نکتے کو بنیاد بنا کر عدلیہ سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ اس عمل کی نگرانی کرے تاکہ کسی بھی برادری، خاص طور پر اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو نشانہ نہ بنایا جا سکے۔

شیئر کریں۔