خاموش کیوں ہیں وزیراعظم مودی ، عمان ملاحوں کی موت معاملہ پر اپوزیشن کا سوال

عمان کے ساحل اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کی ایک کارروائی کے نتیجے میں 3 ہندوستانی ملاحوں کی المناک ہلاکت کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت ہائی ہو گیا ہے۔ اس حساس اور سنگین معاملے پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے دعووں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر الگ الگ بیانات جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اور امریکی رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ہلاک ہونے والے ہندوستانی ملاحوں کی میتیں وطن واپس پہنچنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس دردناک واقعے کو تین دن گزر جانے کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے کوئی عوامی بیان یا تعزیتی پیغام سامنے نہیں آیا، جس کا پورا ملک انتظار کر رہا تھا۔ کھڑگے نے مودی کے پرانے نعرے ‘دیش نہیں جھکنے دوں گا’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہی کہ موجودہ حکومت نے ہندوستان کی عالمی حیثیت اور اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان اس وقت حقیقی معنوں میں ‘وشو گرو’ تھا جب وہ غیر وابستگی کی پالیسی پر چلتا تھا اور کسی عالمی طاقت کے سامنے نہیں جھکتا تھا۔

دوسری طرف لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ بیان پر سخت اعتراض جتایا ہے۔ راہل گاندھی نے انکشاف کیا کہ 3 ہندوستانی شہریوں کی جان لینے کے بعد بھی امریکہ نے افسوس کا اظہار کرنے یا معافی مانگنے کے بجائے دھونس اور حکم چلانے والی زبان استعمال کی ہے۔ امریکی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ کہنا کہ ‘امریکی فوج کے احکامات پر فوری عمل کیا جائے اور کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہوگی’، کسی بھی خود دار اور آزاد ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

راہل گاندھی نے اس پورے بحران کے دوران وزیر اعظم مودی کے رویے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں ‘کمپرومائزڈ پی ایم’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم ملک کے وقار کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور امریکہ کے سامنے ایک فرمانبردار خادم کی طرح کھڑے ہیں۔ کانگریس رہنما نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس نازک معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے کیونکہ خارجہ پالیسی کی آڑ میں ہندوستانی شہریوں کی جانوں کو داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔

اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی خودمختاری اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ملکارجن کھڑگے نے اپنے بیان کے آخر میں دوٹوک انداز میں کہا کہ ایسے نازک وقت میں جب قوم حقیقت جاننا چاہتی ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں، حکومت کی خاموشی کو کسی بھی صورت میں جواب دہی کا متبادل نہیں مانا جا سکتا۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا اور ملکی وقار کو بحال رکھنا اس وقت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

شیئر کریں۔