قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے دہلی ہائی کورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے رابطے میں تھے اور انہی روابط کو جموں و کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کے بیانیہ کے فروغ کے لیے استعمال کرتے تھے۔ این آئی اے نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی فنڈنگ کیس میں دی گئی عمر قید کی سزا کو بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کیا جائے۔
یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دودیجا پر مشتمل بنچ کے سامنے زیر سماعت آیا۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 21 جولائی مقرر کرتے ہوئے حکم دیا کہ این آئی اے کی جانب سے داخل جواب کی نقل یاسین ملک کو جیل حکام کے ذریعے فراہم کی جائے۔ یاسین ملک اس سماعت میں تہاڑ جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہوئے۔
این آئی اے نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ یاسین ملک پاکستان کے وزیراعظم، صدر، سینیٹ اراکین اور صوبائی وزرائے اعلیٰ سمیت اعلیٰ قیادت سے رابطوں میں تھے۔ ایجنسی کے مطابق ان تعلقات کا مقصد ہندوستان مخالف بیانیہ کو تقویت دینا اور جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو بڑھاوا دینا تھا۔
ایجنسی نے مزید کہا کہ یاسین ملک کا یہ دعویٰ کہ وہ مختلف ہندوستانی حکومتوں کے ساتھ پس پردہ امن عمل میں شامل رہے، دراصل عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش ہے اور اس کا مقدمہ میں عائد الزامات سے کوئی تعلق نہیں۔ این آئی اے کے مطابق سیاسی شخصیات یا افسران کے نام لینے سے ان پر لگے سنگین الزامات ختم نہیں ہو جاتے۔
این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ یاسین ملک نے خود کو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کا کمانڈر ان چیف تسلیم کیا تھا۔ ساتھ ہی ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے روابط حافظ سعید اور دیگر عسکریت پسند عناصر سے رہے، جبکہ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین سے تعلقات کا بھی اعتراف کیا گیا۔
یاد رہے کہ مئی 2022 میں ایک خصوصی عدالت نے دہشت گردی فنڈنگ کیس میں یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دیگر علیحدگی پسند تنظیموں اور رہنماؤں کے ساتھ مل کر ملک کے اندر اور بیرون ملک سے رقوم جمع کیں اور ممنوعہ تنظیموں کے تعاون سے سرگرمیاں چلائیں۔
یہ مقدمہ جموں و کشمیر کی سیاست اور سلامتی کے تناظر میں نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر این آئی اے کی اپیل منظور ہوتی ہے تو یہ کیس ایک نئے قانونی اور سیاسی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔




