از: ریاض الرحمن اکرمی ندوی
بچوں کی نشوونما کے لیے نہ صرف بڑوں کا سہار اور اچھی تربیت درکار ہوتی ہے، بلکہ بچے نرمی، شفقت اور پیارکے بھی مستحق ہوتے ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم صرف اپنی اولاد ہی سے نہیں بلکہ دوسرے بچوں کے ساتھ بھی ہمیشہ بہت شفقت کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا حق نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں۔
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے، جس میں ساری انسانیت کے لیے ہدایت موجود ہے، بچوں کے ساتھ شفقت و محبت کے معاملے میں آپ کی ذات بے مثال تھی، آپ کی عادت شریفہ تھی کہ فصل کا تازہ میوہ آپ کی خدمت میں پیش ہوتا تو حاضرین میں جو سب سے کم عمر ہوتا اس کو دیتے، جب بچوں کے پاس سے گزرتے تو پہلے ان کو سلام کرتے۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ "میں آپ کے ساتھ کہیں جارہا تھا، ہم کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے بچوں کو سلام کیا”۔بچوں کے اندر بچپن ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو، اس لیے ہم بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات اور قصوں کو سنائیں۔ درود شریف یاد کروا کر اس کو پابندی کے ساتھ صبح و شام پڑھنے کا اہتمام کرائیں ، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم پر درود کی شکل میں ایک عظیم تحفہ بھیجیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ بچوں کے اندر روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری اور مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کا جذبہ اور شوق پیدا کریں۔ ربیع الاول کے میہنے کی مناسبت سے بچوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور واقعات کی بہترین کتابیں پڑھنے کا عادی بنائیں تاکہ بچوں کے اندر کامیاب زندگی گزارنے کی سمجھ اور فکر پیدا ہوجائے، جس سے آپ کی شخصیت سے محبت اور وارفتگی پیدا ہوجائے گی اور دین پر مرمٹنے کاجوش وجذبہ پیداہوگا۔ پیاری پیاری سنتیں یاد دلائی جائیں جس سے اتباعِ رسول کا شوق پیدا ہوگا۔ پیاری پیاری ننھی منی طویل نعتیں اور نظمیں سنائی اور زبانی یاد کرائی جائیں ۔ ایسے موقعوں پر بچوں کے اندر سننے سنانے کا اور پڑھنے کا جذبہ ہوتاہے جس سے دین اسلام کی خدمت کا احساس پیدا ہوتاہے ایسے بچے بڑے ہوکر دین اسلام کے سچے داعی اور وفادار ثابت ہوتےہیں اور اس کی بقا وترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے نبی کی سچی اور حقیقی محبت اور دین اسلام کے لیے قربانی دینے کا جذبہ عطافرمائے آمین ۔




