News: اتر پردیش کی سرحد سے متصل پڑوسی ریاست بہار کے ضلع مظفر پور میں ایک دل دہلا دینے والا بڑا سانحہ پیش آیا ہے۔ شہر کے برہما پورہ علاقے میں واقع معروف ‘پرساد اسپتال’ کی پانچویں منزل پر قائم انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں آئی سی یو میں زیر علاج کم از کم ۱۰ مریضوں کی تڑپ تڑپ کر جان چلی گئی ہے جبکہ کئی دیگر مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی علی الصباح تقریباً ۳ بجے اس وقت پیش آیا جب اسپتال میں موجود تمام مریض اور ان کے تیمار دار گہری نیند میں تھے، جس کی وجہ سے بچاؤ کارروائیوں میں تاخیر ہوئی اور زہریلے دھوئیں نے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جس وقت آئی سی یو وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے باعث چنگاریاں اٹھیں، اس وقت وہاں تقریباً ۱۵ سے ۲۵ مریض داخل تھے۔ چند ہی منٹوں میں آگ نے بھیانک شکل اختیار کر لی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت میں گھنا سیاہ دھواں پھیل گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آئی سی یو میں مرکزی ہوا دان اور آکسیجن سپلائی کی موجودگی کے باعث دھواں تیزی سے زہریلی گیس میں تبدیل ہو گیا، جس سے شدید علیل مریضوں کا سانس لینا محال ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی تقریباً ایک درجن گاڑیاں اور مقامی پولیس فورس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور بڑے پیمانے پر مشترکہ امدادی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ فائر فائٹرز نے محدود راستوں اور اندھیرے کے باوجود اسپتال کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ کر اندر پھنسے افراد کو باہر نکالنے کا راستہ بنایا۔
امدادی ٹیموں نے انتہائی ناموافق حالات میں کارروائی کرتے ہوئے آکسیجن کی کمی کے باعث تڑپتے ہوئے ۲۰ سے زائد مریضوں کو محفوظ طریقے سے کھڑکیوں کے راستے باہر نکالا اور انہیں فوری طور پر قریبی دیگر نجی اور سرکاری اسپتالوں میں منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیمیں ان کا علاج کر رہی ہیں۔ جاں بحق ہونے والے بدنصیب مریضوں کی شناخت کا عمل ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تیزی سے جاری ہے تاکہ قانونی کارروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کی جا سکیں۔ اس المناک واقعے کے بعد اسپتال کے باہر کہرام مچ گیا اور مریضوں کے مشتعل لواحقین نے اسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کے سنگین الزامات عائد کیے۔
متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ جیسے ہی آئی سی یو میں آگ لگی، اسپتال کا پورا طبی اور انتظامی عملہ بے بس مریضوں کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی جانیں بچانے کے لیے موقع سے فرار ہو گیا۔ لواحقین نے یہ سنگین دعویٰ بھی کیا ہے کہ حادثے کو دبانے اور اپنی گردن بچانے کے لیے اسپتال کے کچھ ملازمین نے مبینہ طور پر بعض لاشوں کو خفیہ طور پر ادھر ادھر منتقل کرنے کی کوشش کی، جس سے پورے معاملے کی نوعیت مزید مشکوک اور سنگین ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کے اصولوں اور عوامی تحفظ کے ضوابط کے تحت کسی بھی طبی ادارے میں ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر سیفٹی سسٹم کا فعال ہونا لازمی ہے، لیکن عینی شاہدین کے مطابق اس اسپتال میں حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص پائے گئے۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے جائے وقوع کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کو ہی آگ لگنے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسپتال کے فائر این او سی (No Objection Certificate) اور بلڈنگ بائی لاز کی بھی باریک بینی سے جانچ کی جائے گی۔ دہلی کے مالویہ نگر میں ایک ہوٹل میں پیش آئے حالیہ آتشزدگی کے واقعے کے فوراً بعد مظفر پور کا یہ سانحہ ملک بھر کے عوامی مقامات اور طبی مراکز میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظام پر ایک بار پھر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لواحقین کے بیانات اور تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے گی۔




