کرناٹک : مسلم تنظیموں کے خط پر وزیر ضمیر احمد خان کا ردعمل

بنگلورو(فکروخبرنیوز) کرناٹک کی معروف مسلم تنظیموں کی جانب سے کانگریس ہائی کمان کو لکھے گئے احتجاجی خط کے معاملے پر ریاستی وزیر برائے ہاؤسنگ و وقف بی زیڈ ضمیر احمد خان نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ بنگلورو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاسی اور سماجی رہنماؤں میں کچھ حد تک عدم اطمینان پایا جاتا ہے، جسے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیر ضمیر احمد نے کہا کہ انہوں نے میڈیا کے ذریعے اس خط کے بارے میں سنا ہے جس پر 15 سے 16 کمیونٹی لیڈروں کے دستخط ہیں۔ انہوں نے کہا، "ان رہنماؤں نے اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کیا ہے، میں ان کی طرف سے بات نہیں کر سکتا۔ اگر آپ ان کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں تو براہِ راست ان سے سوال کریں کہ انہوں نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔”

حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مبینہ امتیاز کے الزام پر ضمیر احمد نے زور دے کر کہا کہ کانگریس حکومت میں سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جا رہا ہے اور کسی بھی سطح پر کوئی امتیاز نہیں برتا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں مختلف رہنما مختلف آراء رکھتے ہیں، ہر رائے پر ضرورت سے زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سینئر لیڈر نصیر احمد اور عبدالجبار کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے ضمیر احمد نے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا، "نصیر احمد ایک سینئر لیڈر ہیں۔ اگر کسی نے پارٹی مخالف سرگرمی کی ہے تو کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ پہلے شوکاز نوٹس جاری ہونا چاہیے اور جواب ملنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ستیش جارکی ہولی سمیت کئی دیگر وزراء نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ فوری کارروائی کے بجائے ضوابط کی پیروی ضروری تھی۔

خط میں مستقبل کے انتخابات میں کانگریس کو "سبق سکھانے” کے انتباہ پر وزیر موصوف نے کہا کہ کمیونٹی لیڈروں میں جو بھی ناراضگی یا شکایات ہیں، ہم ان سے بات کریں گے اور بیٹھ کر ان تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

شیئر کریں۔