حج کمیٹی کے ایک ایگزیکٹیو آفیسر تھے مسٹر سادان۔ بڑے نیک اور صالح ۔ 1953ء میں حکومتِ ہند نے انہیں ہدایت کی کہ مکہ مکرمہ حج پر جاکر ہندوستانی حاجیوں کے حالات کی رپورٹ حکومت کو پیش کریں۔ سادان صاحب سے میرے گہرے مراسم تھے ، مسافر خانہ میں انہوں نے میری محنت کو دیکھ لیا تھا۔ انہیں مجھ سے محبت ہوگئی تھی ، ان کی عمر کافی ڈھل گئی تھی ، انہوں نے حکومت کو لکھا کہ ان کے لئے اکیلے حج پر جانا ممکن نہیں ، یہاں پر ایک خدمت گذار شخص موجود ہے اگر اسے ساتھ بھیج دیا جائے تو میں جانے کے لئے تیار ہوں، ورنہ نہیں۔ سادان صاحب کے ساتھ مزید سات آٹھ افراد نے بھی میری سفارش کی۔ جس کے بعد حکومت کا حکم نامہ آیا کہ میں سادان صاحب کا معاون بن کر مکہ مکرمہ جاؤں اور رپورٹ پیش کروں۔ میں نے یہ حکم نامہ احمد غریب مرحوم دکھایا، اور ان سے مشورہ طلب کیا ۔ وہ یہ جان کر بڑے خوش ہوئے اور آخری جہاز پر روانہ ہونے کی ہدایت کی۔ اس طرح سادان صاحب کی رفاقت میں میرا دوسرا حج 1953ء میں ہوا۔
اس سفرمیں بھی بہت سی مصیبتوں سے گذرنا پڑا۔ وہی گرمی کی شدت ،وہی لُو کا چلنا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کی حفاظت کرنا چاہئے تو بچاؤ اسباب پیدا ہوہی جاتے ہیں۔ اس سفرمیں بھی ایک واقعہ پیش آیا ، وہ یوں کہ ہماری سکونت کے لئے دووسیع و عریض کمروں کا ایک مکان تھا۔ ساتھی سب باہر گئے ہوئے تھے۔ میں ایک کونے میں بیٹھا ہواتھا کہ مجھے لُولگ گئی ، گرمی دماغ پر چڑھ گئی اور میں بے ہوش ہوگیا، اتفاقاً احمد غریب وہاں آپہنچے اور منیری منیری کہہ کر آواز دینے لگے، لیکن میں کہاں ان کی آواز کا جواب دے سکتاتھا، میں تو چادروں اور گدوں کے بیچ بے ہوش پڑا تھا۔ زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی ۔ احمد غریب یہ سب دیکھے ہوئے آدمی تھے۔ اندر گئے اور دوبالٹی پانی لے آئے اور میرے سر پر اسی حالت میں پانی انڈیل دیا، یہ بھی نہ دیکھا کہ تکئے چادر بھیگ جائیں گے ، اس کے بعد ہی مجھے ہوش آیا۔
یہ میری جوانی کے دن تھے ۔ سادان صاحب بڑھتی عمر کے پیش نظر کمزور تھے۔ میں سفر میں ان کے لئے ایک سہاراتھا۔ ہم روزانہ حاجیوں کے کیمپ کا دورہ کرتے ، ان کے حالات جاننے کی کوشش کرتے ، انڈین میڈیکل مشن کا معائنہ کرتے اور اس کی رپورٹ تیار کرتے۔ ان ایّام میں سید مصطفی کامل قدوائی مرحوم سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر ہوا کرتے تھے۔ دوارن ِ سفر انہیں مجھ سے بہت گہرا ربط و تعلق ہوگیا۔ جب سادان صاحب کے ساتھ میری ہندوستان واپسی کا وقت قریب آیا تو وہ احمد غریب کے پاس آ کر کہنے لگے کہ ان کے آفس میں حکومت ہند کی طرف سے کام کرنے والوں کی بڑی کمی ہے، جس کی وجہ سے انہیں بڑی تنگی محسوس ہورہی ہے، منیری کو کام کے لئے میرے ساتھ چھوڑدیں ۔ احمد غریب نے مجھے مصطفی کامل کے آفس میں کام کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ خدمت مفت کروں ، اس کا معاوضہ نہ لوں۔ اور کہا کہ وہ مجھے دل وجان سے چاہتے ہیں اور بار بار آکر مجھے اپنے یہاں کام پر لگانے کا اصرار کرتے ہیں۔
آخر کار میں نے انڈین کونسل جنرل کے آفس میں کام شروع کردیا ۔ قدوائی صاحب بڑی چاہت کا برتاؤ کرتے۔ میرے ساتھ ہی کھانے کی میز پر بیٹھتے ۔ میرا بڑا خیال رکھتے ۔ ان کی خوشدامن صاحبہ بھی اس وقت حج پر آئی ہوئی تھیں ، احتشام النساء بیگم ان کا نام تھا ، کافی عمر کی تھیں، بارہ بنکی میں نواب کی کوٹھی کی رہنے والی تھیں، جب تک میں نہیں پہنچتا دوپہر کا کھانا نہیں کھاتیں۔ پہلے مجھے کھلاتیں ، اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے ۔ اس طرح جب دو تین ماہ گذر گئے تومیں نے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا ۔ اور واپسی کی تیاریاں شروع کردیں۔ اس کا جب قدوائی صاحب کو علم ہوا تو اصرار کرنے لگے منیری ! تم یہیں رہو، جو سہولتیں چاہئیں وہ تمہیں دینے کے لئے تیارہوں، ویزا ، سعودی شہریت ، پاسپورٹ جو چاہے طلب کرو۔ ان کا یہ اصرار اس حد تک بڑھا کہ جب جہاز پرچڑھنے کا وقت آیا تو خود گاڑی چلا کر جہاز تک آئے اور ٹکٹ کینسل کرنے لگے۔ مگر اس وقت سرپر وطن جانے کا خبط سوار تھا میں کہاں رکنے والا تھا ، ویسے بھی میں نسبتاً ضدی طبیعت کا واقع ہوا تھا۔ ان کی باتیں سنی ان سنی کردیں۔ اگر ان کی بات مانتا تو آج سعودی عرب کا میں شہری ہوتا۔ جو ہوا،سو بہتر ہی ہوا۔ مشیت ِ ایزدی میں جو ہوتاہے وہی ہوتاہے ، میں قدوائی صاحب کو چھوڑ کر پہلے ہی کی طرح حاجیوں کی خدمت میں لگ گیا۔




