اتر پردیش کے مرادآباد میں ایک نیا سماجی اور قانونی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ یہاں ایک رہائشی کالونی میں ایسے پوسٹرز لگائے گئے ہیں جن میں مکان مالکان سے کھلی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھر مسلمانوں کو فروخت نہ کریں۔ یہ واقعہ کٹگھر تھانہ حدود میں واقع لاجپت نگر کے علاقے شری رام سوسائٹی کا ہے، جہاں لگائے گئے ان پوسٹرز میں علاقے کو مکمل طور پر ایک ہندو سناتنی سوسائٹی قرار دیا گیا ہے اور پراپرٹی صرف ہندو خریداروں کو ہی دینے کی تاکید کی گئی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق اس کالونی میں تقریباً چالیس خاندان رہائش پذیر ہیں اور یہاں کئی مکانات کے باہر ایسے دو درجن کے قریب پوسٹرز دیکھے گئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس اقدام کا کھل کر دفاع کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا واحد مقصد پڑوس کے موجودہ مذہبی اور ثقافتی کردار کو برقرار رکھنا ہے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ کالونی کے تمام خاندان مل کر اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں، کالونی کے بالکل سامنے ایک مندر واقع ہے اور یہاں باقاعدگی سے کمیونٹی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر مکانات صرف ایک ہی کمیونٹی کے اندر فروخت کیے جائیں تو باہمی ہم آہنگی برقرار رہے گی۔
سوسائٹی کے ایک اور شہری نے صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنا مکان بیچنے کا ارادہ رکھتا ہے تو کالونی کے لوگ اس سے باقاعدہ درخواست کریں گے کہ وہ اسے صرف کسی ہندو خاندان کو ہی دے، کیونکہ یہ ان کی اجتماعی رائے ہے۔ اس پیش رفت نے پراپرٹی کے لین دین میں امتیازی سلوک اور انفرادی جائیداد کے بنیادی حقوق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ محض مذہب کی بنیاد پر جائیداد کی فروخت کو محدود کرنے کی کوشش ہندوستانی آئین کے تحت فراہم کردہ مساوات اور آزادی کی روح کے صریحاً خلاف ہے۔
قانونی ماہرین نے بھی اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق مذہبی بنیادوں پر اس طرح کی کھلی پابندیوں کو کسی بھی وقت عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ آئینی شقیں تمام شہریوں کے لیے قانون کے سامنے برابری کو یقینی بناتی ہیں اور مذہب، ذات یا نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی سختی سے ممانعت کرتی ہیں۔ اگر اس طرح کی غیر رسمی پابندیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گئی تو عدالت اس کے قانونی جواز کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقامی پولیس یا حکام کی جانب سے تاحال اس حساس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ متعلقہ تھانے میں اس حوالے سے کوئی رسمی شکایت درج کرائی گئی ہے یا نہیں۔ یہ واقعہ شہری ہندوستان میں رہائشی طرز اور بڑھتی ہوئی سماجی تفریق کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں کچھ کمیونٹیز سکون اور تحفظ کے نام پر یکساں مذہبی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، وہیں یہ طرز عمل ایک کھلی، جمہوری اور غیر امتیازی ہاؤسنگ مارکیٹ کے وسیع تر اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔




