میٹرو کرایہ میں اضافہ کے لیے ریاستی حکومت ذمہ دار نہیں : ڈی کے شیوکمار کا بی جے پی پر حملہ

منگلورو (اے این آئی) کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے شہری ترقی ڈی کے شیوکمار نے میٹرو کرایہ میں اضافے کے معاملے پر ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بی جے پی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میٹرو کرایہ طے کرنے والی کمیٹی کی سربراہی مرکزی حکومت کے مقرر کردہ سکریٹری کرتے ہیں اور اس فیصلے میں ریاستی حکومت کا کوئی براہِ راست کردار نہیں ہے۔

منگلورو اور بعد ازاں بنگلورو میں واقع اپنی سداشیو نگر رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اگر میں نے میٹرو کرایہ میں اضافے سے متعلق کسی فائل پر دستخط کیے ہوں تو مجھے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عوام کو تکلیف پہنچانے سے پہلے میں ہمیشہ مالی صورتحال کا جائزہ لیتا ہوں۔ انہوں نے بی جے پی کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بی ایم آر سی ایل کو مالی مدد نہ دینے کے سبب کرایوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی پہلے یہ بتائے کہ اس نے مرکز میں رہتے ہوئے ریاست کرناٹک کے لیے کیا کیا ہے؟

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا کے اس بیان پر کہ ریاستی حکومت کی منظوری کے بغیر میٹرو کرایوں میں اضافہ ممکن نہیں، ڈی کے شیوکمار نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اتنا تجربہ نہیں ہے۔ وہ صرف میڈیا میں بیانات اور ٹویٹس تک محدود ہیں۔ بے بنیاد باتیں نہ کریں۔ کیا ان کے پاس مرکز سے ریاست کے لیے کچھ لانے کا کوئی ریکارڈ ہے؟ ‘خالی ٹرنک’ کی باتیں نہ کریں۔

سیاسی قیادت سے متعلق سوال پر، جب یہ کہا گیا کہ عوام اور قانون ساز انہیں وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، شیوکمار نے کہا کہ ہمیں پارٹی کی بات سننی ہے۔ لوگ، قانون ساز اور آپ (میڈیا) سب یہی چاہتے ہیں، لیکن فیصلہ پارٹی کرے گی۔

دلت تنظیموں کی جانب سے وزیر داخلہ جی پرمیشور کو وزیر اعلیٰ بنانے کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ فالورز اور حمایتی ہمیشہ اپنے لیڈروں کو بڑے عہدوں پر دیکھنا چاہتے ہیں، میں انہیں اس خواہش سے نہیں روک سکتا۔ ریاستی بجٹ کے بعد قیادت میں تبدیلی سے متعلق سوال پر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اس کا جواب وقت دے گا۔