لکھنؤ (فکروخبر نیوز) عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و دینی شخصیت، معروف عالم دین، اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سابق استاد حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی آج صبح انتقال کر گئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
ذرائع کے مطابق مولانا گزشتہ کچھ عرصے سے علیل چل رہے تھےاور آج دیر رات اپنے مالک حقیقی سے جاملے جس کی خبر پھیلتے ہی ملک و بیرونِ ملک کے علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف اداروں، علماء، دانشوروں اور مولانا کے شاگردوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی اپنے دور کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ایک بلند پایہ عالم، مفسر، محدث ، صاحبِ فکر اور مؤثر خطیب تھے۔ انہوں نے طویل عرصے تک دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں تدریسی خدمات انجام دیں اور ہزاروں طلبہ کی علمی، فکری اور دینی تربیت کی۔ علمی و دعوتی میدان میں ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے گا۔
مولانا مرحوم نے ملک و بیرونِ ملک متعدد علمی، فکری اور دعوتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تحریریں، خطابات اور علمی کاوشیں دینی حلقوں میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق مولانا کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ عصر جامعہ سید احمد شہید، کٹولی (ملیح آباد) میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد تدفین عمل میں آئے گی۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی رحلت کو علمی اور دینی دنیا کا ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان، متعلقین اور شاگردوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔




