از : مولانا محمد ناصرسعید اکرمی
(2026-1936)
مورخہ17/ شوال المکرم 1447ھ مطابق5/اپریل 2026ء بروز اتوار سوشل میڈیا کے ذریعے علی الصباح یہ خبر جانکاہ ملی کہ حضرت مولانا عبداللہ مغیثی صاحب اب اس دنیا میں نہ رہے اور داعئ اجل کو لبیک کہتے ہوئے اللہ کے دربار میں پہنچ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
پیدائش وتعلیم:
مولانا کی پیدائش سن 1936 ء کی ہے، آپ نے موضع گھگرولی ضلع سہارنپور میں آنکھ کھولی، آپ کے والد کا نام مغیث الدین مغیثی تھا، مغیثی کی نسبت اپنے والد ماجد کی طرف ہے،تعلیم کا آغاز سن 1943 میں ہوا، اور سن 49 عیسوی تک حفظ کی تکمیل کی،ابتدائی تعلیم اپنے وطن سہارنپور میں حاصل کی،اعلی تعلیم کے لیے دیوبند چلے گئے،وہاں سے آپ نے سن 57 عیسوی میں فراغت حاصل کی، اس کے بعد آپ نے تفسیر قران میں تخصص کیا،اس کے لیے ایک سال لگایا،تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے وطن اجراڑہ کے مدرسے میں تعلیمی خدمات کا آغاز کیا اور یہ آغاز آپ نے سن 1960ء میں کیا۔
تدریس واہتمام:
اس کے دو سال بعد آپ کو مدرسے کا اہتمام سونپا گیا، جس کو آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا، آپ اپنے اہتمام میں ہر وقت مدرسے کی تعلیمی و تعمیری ترقی دینے میں یکسو رہے اور اس کے لیے ملک و بیرون ملک کے اسفار کیے، اس کے ساتھ ساتھ کئی اداروں اور انجمنوں کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے اور انہی اداروں میں رہ کر قوم و ملت کی خدمات انجام دیں۔
جس طرح حضرت کا قدوقامت اونچا تھا اسی طرح آپ کی شخصیت بھی ہر چیز میں اور ہر کام میں اونچی اور بلند تھی، آپ خوش پوشاک بھی تھے، دو پلے والی ٹوپی، گھنی داڑھی، چشمہ اور لمبا سفید جبہ زیب تن کرتے تھے۔
حضرت کی وفات ملت اسلامیہ کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے، حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری سے آپ کا اصلاحی تعلق تھا اوروقت کے جید علماء واکابر علامہ بلیاوی،حضرت فخر الدین مراد آبادی اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ حضرات سے آپ کو شرف تلمذ حاصل تھا،حضرت مولانامجاہد الاسلام صاحب سے خصوصی ربط رہا،مرحوم آپ کے دست راست تھے، مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن رکین تھے اور بورڈ کے تاسیسی رکن اور رکن عاملہ میں بھی شامل رہے۔
حضرت مولاناحکیم عبداللہ مغیثی رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت نہایت متقی اور پرہیز گارتھی، سنن اور نوافل اور آداب سحرگاہی کے حد درجہ پابند تھے، اپنے ماتحتوں کے ساتھ شفقت اور نرمی کا معاملہ کرتے، ان کی ضرورتوں کو سمجھتے اور پورا کرنے کی کوشش کرتے،مدرسے کی ترقی ہر وقت آپ کے پیش نظر رہتی، اس کے لیے آپ نے کئی ملکوں کا سفر کیا،آپ کے سفر میں رفیق سفرکے طور پر اکثر و بیشتر مولانا آس محمد گلزار اور مدرسے کے شیخ الحدیث مولانا محمد عقیل صاحب رہتے تھے، مذکورہ دونوں حضرات مولانا کے ساتھ کئی بار بھٹکل میں بھی تشریف لاچکے ہیں۔
مرحوم کا شمار دیوبند کے ممتاز فارغین میں ہوتا ہے،آپ آل انڈیا ملی کونسل میں ابتدا سے شامل رہے اور زندگی کے آخری ایام تک اس سے جڑے رہے، نصف صدی سے زیادہ عرصے تک اجراڑہ مدرسہ حسینیہ کی ذمہ داری کو سنبھالے ہوئے تھے،مرحوم کی سرپرستی میں مدرسے سے ماہنامہ رسالہ ”یادگاراسلاف“ ایک مدت تک نکلتا رہا، ہمارے معہد امام حسن البنا میں بھی وہ رسالہ پہنچتا تھا اورہمارے نوجوانوں کے زیر مطالعہ برابررہتا تھا،مرحوم اپنی ڈھیرساری مصروفیات کے باوجود ہر وقت اپنی اصلاح کی فکر میں رہتے، حضرت مولانا علی میاں سے آپ کو خاص تعلق تھا، مرحوم حضرت کے خلیفہ مجاز بھی تھے، حسنی خاندان سے آپ کا خصوصی تعلق وربط تھا۔
مرحو م ایک اچھے مقرر،داعی،مصلح تھے،کئی بار بھٹکل تشریف لائے اور حضرت کے مواعظ اور بیانات سے اہل بھٹکل مستفیض ہوتے رہے،دینی وملی میدان میں آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ آج مولانا کومرحوم لکھ کر قلم لرز رہاہے۔حضرت کی وفات اور جدائی قوم و ملت کے لیے بڑا خسارہ ہے۔
آپ نے ایک لمبی عمر پائی اور پوری عمر مصروف رہے اور دین کی خدمت انجام دیتے دیتے دنیا سے رخصت ہوئے اور حقیقی معنی میں آپ اس حدیث کے مصداق تھے جس میں فرمایا گیا ہے:”خیرکم من طال عمرہ وحسن عملہ“ یعنی تم میں بہتر وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور ساتھ ہی عمل بھی اچھا ہو۔
ہمارے معہد کی طالبات ومعلمات نے قرآن خوانی کرکے حضرت کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام کیا، ادارے کی طرف سے حضرت کی وفات پر تعزیتی مکتوب ان کے اہل خانہ کے نام بھیجا گیا تھا۔
حضرت نے راقم کی درخواست پر مولانا اقبال ملا ندوی مرحوم اور مولانا غزالی ندوی مرحوم پر اپنے تاثرات ارسال فرمائے تھے۔
”ذکر اقبال“ میں مولانا محمد اقبال ملا ندوی مرحوم پر اپنے تاثرات یوں تحریر فرماتے ہیں:
”قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے مفصلاً اور اجمالا حالات و واقعات بیان کئے گئے ہیں، ان سب کے بیان کرنے میں حکمت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے نصیحت و راہ نمائی کا ذریعہ بن جائے، اسی طرح ان کے بعد صحابہ کرام، تابعین عظام، اولیائے کرام اور ہمارے اکابر علماء کے حالات و واقعات بھی لوگوں کے لئے راہ نمائی کا ذریعہ ہیں، یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے اصاغر اپنے مستقبل کے لئے ان بھی کی حیات اور سیرت و کردار کے کچھ تابناک اور روشن پہلو اور ابواب سے واقف ہوں اور یہ ہمارا مقصد بھی ہونا چاہئے کہ ہمارے اکابر کی سوانح عمریاں لکھی جاتی رہیں تا کہ آنے والی نسل کو زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بھر پور راہ نمائی مل سکے۔
عزیزم (مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی سلمہ مہتمم جامعہ رحمت گھگر ولی سہارن پور کے توسط سے مجھے یہ جان کر مسرت ہوئی کہ جناب مولانا محمد ناصر سعید ا کرمی ناظم معہد الامام حسن البنابھٹکل کی محنت اور جدو جہد کے نتیجہ میں حضرت مولانا محمد اقبال ملا ندوی (سابق قاضی جماعت اسلمین بھٹکل و سابق صدر جامعہ اسلامیہ بھٹکل) کے مفصل حالات زندگی اورعلمی کارناموں پرمشتمل ذکر اقبال، علمی حلقوں میں استفادہ کے لئے آرہی ہے میرا آپ سے اور آپکے افراد خاندان سے قلبی اورمخلصانہ تعلق رہا ہے، آپ کی ذات علم و عمل فضل و کمال صلاح و تقوی اور اخلاص و للہیت کی مظہر جمیل تھی آپ جہاں ایک صاحب طرز ادیب، کامیاب معلم و مدرس با کمال فقیہ اور بے مثال مصلح امت تھے وہیں زہد و تقوی، رجوع الی اللہ، خدا ترسی خود داری و خود اعتمادی اور رحم دلی و ہمدردی جیسی عظیم صفات آپکے اندر موجود تھیں علم فلکیات سے سبھی آپکو گہری واقفیت حاصل تھی، مولانا کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں از کارحج و عمرہ اور تخریج اوقات الصلاۃ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ایسی عظیم دینی ہستی کے حالات زندگی اور روشن کارناموں پر مشتمل ایک معیاری سوانح علمی حلقوں کے لئے کسی تحفہ سے کم نہیں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اسے امت کی اصلاح کا ذریعہ بنائے اور اس مخلصانہ کوشش کو قبولیت سے سرفراز فرمائے۔ آمین“ فقط والسلام
دعا گو
حضرت الحاج مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی
قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل ومہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ
(ذکر اقبال (542)سے ماخوذ ہے۔)
”اولیاء اللہ کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ ان کی زندگیاں با فیض و با مقصد اور امت کے لئے مشعل راہ ونشان ہدایت ہوتی ہیں، وہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں اوروں کے غم میں ہلکان اور اصلاح وتربیت کے لئے فکر مند و پریشان رہتے ہیں اور نیابت نبوت کا حق ادا کرنے کی خالص ومخلص کوشش کرتے ہوئے ابدی وسرمدی کامرانیاں سمیٹتے رہتے ہیں، ماضی قریب کی ایسی ہی فنا فی اللہ شخصیات میں ایک نمایاں نام داعی الی اللہ حضرت مولانا محمد غزالی خطیبی ندوی کا بھی ہے جو زندگی بھر حسن انسانیت کے اشارے پر خالق کا ئنات کی مزدوری کرنے کے بعد گزشتہ رمضان المبارک 1439ھ میں اپنی اجرت لینے چلے گئے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)
حضرت مولانا غزالی نے جنوبی ہند کے مردم خیز شہربھٹکل کے ایک علمی خانوادہ میں آنکھیں کھولیں، خالص علمی وعملی ماحول میں تربیت پائی اور نامور روحانی شخصیات و بزرگان دین سے اکتساب فیض کیا اور اپنی70 سالہ زندگی کا بیشتر حصہ دعوتی امور کے لئے وقف کر کے تقریر تحریر تبلیغ ہر طرح سے اصلاح امت کی فکر جاری رکھی جس کے اثرات وشرات ہندو بیرون ہند تک محسوس کئے جاسکتے ہیں، وہ اسلاف واکابر سے سچی محبت رکھنے والے بزرگ اور ہمارے مرشد و شیخ حضرت مفکر اسلام کے خلیفہ و جانشین نمونہ اسلاف واکابر حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب حسنی ندوی کے تقلید و مستر شد اور خلیفہ ہونے کے ساتھ ہی ندوۃ العلماء کی شوری کے رکن بھی تھے، مزاج میں توسع نظریات میں وسعت، اخلاقی بلندی، تواضع و انکساری اور خلوص و ہمدردی ان کی خاص پہچان تھی، وہ دور حاضر میں بلاشبہ امت کے محسنین میں سے تھے۔
محسنین کے احسان کا تقاضہ اورمحسن نوازی کا حق یہ ہے کہ ان کو خیر کے ساتھ یاد کیا جائے، ان کی مبارک زندگیوں کے روشن پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے تا کہ بعد از مرگ بھی ان کا فیض جاری و عام رہے اور اخلاف کو رہنمائی ملتی رہے، ان حضرات کے نقوش قدم پر چلنے کی کوشش کی جائے کہ یہی ان مصلحین امت کے لئے سچا خراج عقیدت بھی ہے۔
مجھے بے حد خوشی ہوئی یہ جان کر کہ حضرت مولانا غزالی خطیبی ندوی کے حالات زندگی پر معبد الامام حسن البناء الشہید کی جانب سے نقوش طیبات کا خصوصی شمارہ منظر عام پر آرہا ہے، میں اس کے لئے خصوصی دعاؤں اور نیک خواہشات و تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے ماہنامہ کے ایڈیٹر عزیزی مولا نا محمد ناصر سعید اکرمی کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اس اہم کام کی طرف توجہ کی اور اس کار خیر کا بیڑا اٹھایا، اللہ رب العالمین ان کو ہمت و حوصلہ بخشے اور غیب سے اعانت و یاوری فرمائے۔“
(مولانا حکیم) محمد عبد اللہ مغیثی
مہتم جامعہ نگزار حسینیہ اجرازہ و صدر آل انڈیامی کونسل
نقوش طیبات مولانا غزالی نمبر 726سے ماخوذ ہے۔
اللہ تعالی آپ کی مساعیِ جمیلہ کوشرف قبولیت بخشے، آپ کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور ملت کوآپ کا نعم البدل عطا کرے اور پس مانندگان کوصبر جمیل کی توفیق دے۔




