از: عبداللہ غازی دامداابو ندوی
مدیر ماہ نامہ بچوں کا “پھول” بھٹکل
آج علی الصباح مشفق ،مہربان اور کرم فرمائے بے کراں محترم نظام دامدا(بڈور)صاحب کی وفات کی صاعقۂ اثر خبر سن کر بے انتہا رنج اور حددرجہ ملال ہوا۔حق بات یہ ہے کہ مرحوم نظام صاحب راہ و رسم اور قرابت داری کے امین اور ملنساری،وفا شعاری، ہمدردی اور اخوت باہمی کی زندہ مثال تھے۔ چوں کہ ان سے خاندانی قربت تھی اس لیے ان کی ان صفات کا بہت دفعہ قریب سے مشاہدہ ہوا ہے۔وہ ہمارے مشفق مولانا سید ہاشم نظام ندوی کے ماموں اور ہمارے والد مرحوم کے ماموں زاد بھائی تھے۔خاندانی شرافت ، شفقت اور حددرجہ مروت ان کی رگ و پے میں رچی بسی ہوئی تھی۔جب بھی ان سے ملاقات ہوتی تو آپسی رشتے داری کی پوری کہانی سناتے،لوگوں کے حالات اور اپنے محسنین کے احسانات یاد کرتے اور خاندان کے دیگر افراد کے احوال و کوائف معلوم کرتے۔یہی حال ان کے مرحوم بھائی محترم عبدالرشید دامداصاحب کا بھی تھا۔
احسان شناسی اور اقربا پروری جیسی صفت انسان کو ثریا کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ یہ صفت ان میں کوٹ کوٹ کر تھی،مجھے اس کا اندازہ اس وقت بہت زیادہ ہوا جب انھوں نے ایک دفعہ مجھ سے کہا کہ مجھے اپنے مرحومین کا بہت زیادہ خیال رہتا ہے اور میں ہر ایک کے لیے ان کا نام لے کر دعائیں کرتا ہوں۔ پھر انھوں نے ایک ہی لمحے میں کئی نام گناتے ہوئے اشک بار آنکھوں اور بے قرار لہجے میں کہا کہ ان دو سالوں (2022/2023)میں میرے کئی ہمنواؤں اور جگر پاروں کی رحلت ہوئی ہے۔
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
ادارہ ادب اطفال کے قیام اور اس کی جملہ نشاطات کی وجہ سے مجھ سے ان کی انسیت کچھ زیادہ ہی تھی۔ ادارے سے ان کا تعلق پہلے دن سے رہا ہے۔ادارہ ادب اطفال کی اس دس سالہ مختصر تاریخ میں دو چار ہی لوگ ہوں گے جنھوں نے پہلے روز سے تعاون کیا اور ان کا تسلسل اس قدر رہا کہ ان کو کبھی یاد دہانی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ہر سال اور اہم مواقع پر ان کا تعاون یاد دہانی سے پہلے پہنچ جاتا،کبھی ایسے سخت حالات میں جس کا ہمیں وہم و گمان بھی نہیں رہتا۔گویا اللہ تعالیٰ ان سے اور ان جیسے حضرات کے ذریعے سے اپنی اس آیت کی تفسیر سمجھاتے:
وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖؕ-قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا
سال گزشتہ ان سے آخری ملاقات دیر تلک رہی۔ملاقات سے قبل فون پر باتیں ہوئیں،پھر اپنے دولت کدے پر بھی بلایا،جب ان کے یہاں حاضری ہوئی تو بڑی خاطر داری کی۔بڑے بوڑھوں کی ملاقات ہو اور خاندانی باتیں نہ ہوں تو یہ گویا ناممکن ہے،اس ملاقات میں بھی یہی ہوا،دیر تک خاندان کے کئی افراد اور کچھ واقعات اور دیگر احوال سننے کا موقع ملا۔پھر انھوں نے باوجود ضعف اور کمزوری کے پرتکلف تواضع کا اہتمام کیا۔جب میں نے اجازت چاہی تو ادارے کی خریدی گئی زمین کے بارے میں پوچھا۔ جب انھیں بعض حالات کی وجہ سے رقم کی ادائیگی میں تاخیر کا علم ہوا تو متفکر ہوکر کئی ایک کا نام لیا اور ان سے بات کرنے کی گزارش کی پھر اپنے کمرے میں گئے اور ایک خطیر رقم دے کر کہا کہ یہ معمولی رقم ادارے کی زمین کے لیے ہے، شاید کچھ کام آئے۔
آج بھی مجھے ان کی وہ حوصلہ افزا بات یاد آتی ہے جب سال ڈیڑھ سال قبل انھوں نے ادارے کے پروجکٹ کو سن کر کہا تھا کہ:
عبداللہ میاں! بے فکر ہوکر آگے بڑھیں،اللہ نگہبان ہے، ہمت کبھی نہ ہارنا
ہمت مرداں مدد خدا
انھیں ہر اچھے کام سے محبت تھی،اپنے وطن بھٹکل سے دور رہ کر بھی ہم وطنوں اور ان کے کاموں کے لیے متفکر رہتے تھے،کوئی بھی ہو اور انھیں کام سے نسبت ہو یا نہ ہو ان کا کھلا دل اور وسیع ذہن سراپا کام کرنے والوں کے لیے تیار رہتا۔
مرحوم نظام صاحب نے زندگی میں بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں،گردش ایام نے انھیں وہ لمحے بھی دکھائے جن لمحوں میں اچھے اچھوں کا پائے ثبات ڈگمگاتا ہے اور وہ حالات کی نذر ہوکر زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ لیکن مرحوم نظام صاحب کا حوصلہ تادم زیست جواں رہا،گردش نے وہ ساعت بھی دکھائی کہ کاروبار بڑی حد تک ختم ہوگیا اور قرض کے بوجھ نے انھیں گویا نڈھال کردیا۔ لیکن خاندانی شرافت اور بچپن کی تربیت کا وہ اثر تھا کہ بدنامی کا داغ گوارا نہ کیا اور معاملے کی صفائی اور قرض کی ادائیگی کے لیے اپنا شاندار مکان تک فروخت کردیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ترقی دی اور تجارت پھلنے پھولنے لگی۔
ان کی حسین یادیں ذہن و دماغ کے نہاں خانوں میں محفوظ ہیں اور یقیناً ان یادوں کے سہارے ہی وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیان رہیں گے۔ان کی یادیں اور ان کی باتیں دل میں رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور انھیں اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب کرے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین!
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے



