جنوبی ہند بالخصوص ریاست کرناٹک اور کیرالہ کی معروف ترین دینی و علمی شخصیت، بزرگ عالم دین اور دکشن کنڑ ا ضلع کے معزز قاضی الحاج طہ احمد مصلیار منگل کی صبح منگلورو کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ 78 برس کے تھے۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعون۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور ہسپتال میں زیرِ علاج تھے، تاہم تمام تر طبی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کے سانحہ ارتحال کی خبر عام ہوتے ہی ساحلی کرناٹک اور کیرالہ کے مسلم معاشرے، تعلیمی اداروں اور عوامی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مرحوم اپنے پسماندگان میں اہلیہ، تین صاحبزادگان اور دو صاحبزادیوں سمیت لاکھوں عقیدت مندوں اور شاگردوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔
الحاج طہ احمد مصلیار کی رحلت کے بعد منگلورو اور ان کے آبائی خطے میں تعزیتی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ ہسپتال سے ان کا جسدِ خاکی منگلورو کی تاریخی بیلیے پلی یعنی زینت بخش مسجد منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں غسل اور نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے ابتدائی مراحل پورے کیے جائیں گے۔ اس کے بعد میت کو ان کے آبائی ضلع کاسرگوڈ (کیرالہ) لے جایا جائے گا، تاکہ وہاں کے مقامی لوگ اور محبین ان کا آخری دیدار کر سکیں۔ خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مرحوم کی آخری آرام گاہ موڈبیدری کے کاشی پٹنہ میں واقع دارالنور کے احاطے میں ہوگی، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
قاضی احمد مصلیار کی دینی و انتظامی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع تھا۔ انہوں نے سال 2010 میں دکشن کنڑ ضلع کے قاضی کا منصب سنبھالا تھا اور اپنی وفات تک وہ دکشن کنڑ اور کیرالہ کی تقریباً دو سو سے زائد مسلم جماعتوں کے قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ سمست کاسرگوڈ ضلع کے صدر بھی رہے اور مسلم پرسنل لا، شرعی رہنمائی اور سماجی تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں ان کا کردار کلیدی مانا جاتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ مسلم برادری کی تعلیمی اور سماجی بیداری کے لیے دور رس اقدامات کیے اور خطے میں امن و بھائی چارے کی فضا قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انتقال پر ریاست کے اعلیٰ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم ایک انتہائی باوقار اور مدبر دینی رہنما تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانی اقدار، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ریاستی وزیر یو ٹی قادر فرید اور کانگریس کے سینئر لیڈر بی کے ہری پرساد نے بھی گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب کی رحلت سے ساحلی خطہ ایک سچے رہبر سے محروم ہو گیا ہے اور ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام نے اسے ملتِ اسلامیہ کا ایک بڑا خسارہ قرار دیا ہے۔
مسلم اکثریتی علاقوں اور تنظیموں نے قاضی احمد مصلیار کی رحلت کو ایک عہد کا خاتمہ قرار دیا ہے۔ مقامی اداروں، مدارس اور تجارتی تنظیموں نے ان کے احترام میں سوگ کا ماحول برقرار رکھا ہوا ہے۔ تدفین کے انتظامات کے لیے کاسرگوڈ میں انتظامیہ اور رضاکار متحرک ہیں تاکہ آخری رسومات کو پرامن طریقے سے ادا کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی گراں قدر دینی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔




