بھٹکل (فکروخبر) جامعہ اسلامیہ بھٹکل جنوبی ہند میں فقہِ شافعی کی ایک عظیم درسگاہ ہے، جسے قائم ہوئے چونسٹھ سال ہوچکے ہیں۔ اس عرصے میں اس کے ہزاروں فضلاء ملک و بیرونِ ملک دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اور جامعہ کے فیوض و برکات کو عام کر رہے ہیں۔ جامعہ جہاں اعلیٰ دینی تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، وہیں نسلِ نو کی ابتدائی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے شہر بھٹکل کے مختلف علاقوں میں مکاتب کا قیام بھی اس کی اہم خدمات میں شامل ہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر آج 14 ذیقعدۃ الحرام 1447ھ مطابق 2 مئی 2026ء بروز سنیچر بوقت صبح سوا گیارہ بجے الحمدللہ مکتب جامعہ اسلامیہ کی ایک اور شاخ “ مکتب جامعہ اسلامیہ آزاد نگر” کا افتتاح مسجد امام شافعی کے احاطہ میں مدرسہ امام شافعی کی عمارت میں ذمہ دارانِ جامعہ کی موجودگی میں عمل میں آیا۔
افتتاحی نشست کا آغاز مولوی سید اسماعیل برماور کی تلاوتِ کلامِ پاک اور قاری احمد رکن الدین ندوی کی نعتِ رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحفیظ خان ندوی نے مکتب کے قیام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تقریباً پینتیس سال قبل یہ علاقہ جنگلات اور خاردار جھاڑیوں پر مشتمل تھا، جہاں آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ آہستہ آہستہ یہاں آبادی بسی، مسجد قائم ہوئی، اور دینی و ایمانی محنت کے نتیجے میں ایک مضبوط نظام وجود میں آیا۔ آج اسی کا ثمرہ ہے کہ یہاں جامعہ اسلامیہ کی ایک نئی شاخ قائم ہو رہی ہے، جو یقیناً اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے۔
اس کے بعد مولانا انصار ندوی مدنی (استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل و صدر جمعیت مسجد امام شافعی) نے اپنے خطاب میں نسلِ نو کی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکتب کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، اور جمعیت کے ذمہ داران اس کو مضبوط بنانے کے لیے ان شاءاللہ ہر ممکن تعاون پیش کریں گے۔
مہتمم جامعہ اسلامیہ مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے مکتب کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ اسلامیہ کا بنیادی مقصد ہی نئی نسل کی دینی تربیت ہے، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو دن دوگنی ترقی عطا فرمائے۔
ناظمِ جامعہ مولانا محمد طلحہ رکن الدین ندوی نے بھی اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے اندر صحیح دینی فکر اور اخلاقی تربیت پیدا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے لیے مکاتب کا قیام نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ مکاتب میں طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیشِ نظر مزید مقامات پر بھی مکاتب قائم کیے جا رہے ہیں۔
الحمدللہ بارہ طلبہ کے ساتھ مکتب کا آغاز ہوا ہے، اس موقع پر تمام طلبہ کو ان کی درسی کتابوں کے ساتھ ٹفن، بوتل اور اسکول بیگ بھی ذمہ داران کے ہاتھوں تقسیم کیے گئے۔ بعد ازاں صدر جامعہ اسلامیہ مولانا عبدالعلیم قاسمی صاحب نے طلبہ کی بسم اللہ خوانی کرائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ جامعہ اسلامیہ کا فیض دن بہ دن پھیل رہا ہے اور نئی شاخیں قائم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ تمام خدمات اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے انجام دینی چاہئے، کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، دیکھتے دیکھتے بات کرتے کرتے لوگ اللہ کو پیارے ہورہے ہیں، اس لئے ہر ایک کو اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے۔
آخر میں مولوی سلمان کولا ندوی (صدر مدرس، مکتب بدریہ) نے کلماتِ تشکر پیش کیے، جبکہ مولانا افضل شہ بندری ندوی (استاد جامعہ اسلامیہ) کی دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔
اس بابرکت موقع پر جامعہ اسلامیہ کے ذمہ داران کے علاوہ جمعیت مسجد امام شافعی و طوبی کے اراکین، سرپرست حضرات، طلبہ اور اہلِ محلہ کی کثیر تعداد موجود رہی۔ جلسے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالحفیظ ندوی نے انجام دیے۔
رپورٹ : علاقات عامہ ،جامعہ اسلامیہ بھٹکل




