انجینئر پر کیچڑ اچھالنا مہنگا پڑا: مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے کو ایک ماہ قید اور جرمانے کی سزا

مہاراشٹر کے موجودہ وزیر برائے ماہی پروری اور متنازع بیانات کے لیے مشہور نتیش رانے کو سندھو درگ کی ضلعی عدالت نے ایک پرانے معاملے میں مجرم قرار دیتے ہوئے ایک ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ دو ہزار انیس کے اس واقعے پر سنایا گیا ہے جس میں نتیش رانے اور ان کے حامیوں نے ممبئی گوا ہائی وے کے ایک انجینئر پر کیچڑ پھینک کر سرکاری کام میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالی تھی۔

عدالت نے اس معاملے کی طویل سماعت کے بعد نتیش رانے کے ساتھ ساتھ دیگر انتیس افراد کو بھی دفعہ پانچ سو چار کے تحت عوامی مقام پر امن میں خلل ڈالنے اور قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا ہے۔ ابتدائی طور پر ان کے خلاف کئی دیگر سنگین دفعات بھی عائد کی گئی تھیں جن سے انہیں بری کر دیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری افسر کے ساتھ بدسلوکی کے اس واقعے پر عدالت نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے جرمانہ اور قید کی سزا کا اعلان کیا ہے۔

یہ واقعہ چار جولائی دو ہزار انیس کا ہے جب نتیش رانے کانگریس پارٹی کا حصہ تھے۔ اس وقت سندھو درگ ضلع کے کنکولی شہر میں بھاری بارش کے سبب ممبئی گوا شاہراہ پر کیچڑ جمع ہو گیا تھا اور سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث عوام کو شدید پریشانیوں کا سامنا تھا۔ اسی مدے پر احتجاج کے دوران نتیش رانے اور ان کے حامیوں نے ڈپٹی انجینئر پرکاش شیڈیکر پر کیچڑ اچھالا تھا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس کے بعد انجینئر کی شکایت پر متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

نتیش رانے فی الحال سندھو درگ کے نگراں وزیر بھی ہیں اور ان کا شمار ریاست کے طاقتور رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ اکثر اپنے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہتے ہیں۔ ان کی جانب سے ماضی میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ موجودہ ریاستی حکومت ہندوتوا کی حکومت ہے اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ لیکن ضلعی عدالت کے اس حالیہ فیصلے نے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

سزا سنائے جانے کے فوراً بعد نتیش رانے کے وکلاء حرکت میں آ گئے ہیں۔ ان کے وکیل سنگرام دیسائی نے واضح کیا ہے کہ سزا پر عارضی روک لگانے کی درخواست عدالت میں دائر کر دی گئی ہے۔ دفاعی فریق اب اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے جلد ہی بمبئی ہائی کورٹ میں نظر ثانی کی پٹیشن دائر کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ انہیں جیل جانے سے بچایا جا سکے۔

اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ہائی کورٹ اس معاملے میں کیا فیصلہ سناتی ہے۔ اگر نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رہتا ہے تو یہ نتیش رانے کے سیاسی کریئر اور ریاستی حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال یہ عدالتی فیصلہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ احتجاج کی آڑ میں سرکاری افسران سے بدسلوکی کو قانون برداشت نہیں کرتا۔

شیئر کریں۔