بھوپال: مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کابینہ کے خصوصی اجلاس سے ٹھیک ایک دن پہلے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی متنازع اور حساس بیان دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں مستقبل میں صرف ان ہی لوگوں کو رہنے کا قانونی حق حاصل ہوگا جو صرف ایک شادی کریں گے۔ ٹیکم گڑھ اور کٹنی اضلاع میں منعقدہ پروگراموں کے دوران انہوں نے ریاست میں یو سی سی کو سختی سے نافذ کرنے کی وکالت کی، جس پر اب بحث چھڑ گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ موہن یادو نے مذہبی اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے رام اور رحیم کا موازنہ کیا اور سوال اٹھایا کہ ملک میں ہندو اور مسلمانوں کے لیے الگ الگ قوانین کیوں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو اس میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے جذباتی کارڈ کھیلتے ہوئے مزید کہا کہ مسلم خواتین بھی ہماری بہنیں ہیں، اور ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ موہن یادو نے تین دنوں میں دوسری بار اس طرح کا موازنہ پیش کیا ہے، اس سے قبل وہ اندور کے ایک پروگرام میں بھی اسی نوعیت کا بیان دے چکے ہیں۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق، یہ بیانات مدھیہ پردیش کابینہ کے اس اہم اجلاس سے پہلے سامنے آئے ہیں جس میں یو سی سی کے مسودے کو منظوری دیے جانے کی امید ہے۔ یہ اجلاس بھوپال کے تاریخی گاؤں جگدیش پور (سابقہ اسلام نگر) میں منعقد ہو رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کابینہ کی منظوری کے بعد اس بل کو 20 جولائی سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی کے پانچ روزہ مانسون سیشن کے دوران ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
اس مجوزہ قانون کا مسودہ سپریم کورٹ کی سبکدوش جج جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں قائم چھ رکنی کمیٹی نے تیار کیا ہے، جسے 27 اپریل کو مقرر کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے 13 جولائی کو اپنی تفصیلی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو سونپ دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مجوزہ یکساں سول کوڈ سے شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) یعنی قبائلی برادری کو باہر رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جو کہ مدھیہ پردیش کی کل آبادی کا تقریباً 21 فیصد حصہ ہیں۔ کمیٹی کی یہ رپورٹ تین جلدوں اور 404 دفعات پر مشتمل ہے، جس میں عوام سے حاصل کردہ ساڑھے نو لاکھ سے زائد آراء کا تجزیہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بی جے پی مقتول ریاستوں جیسے اتراکھنڈ، گجرات اور آسام کے بعد اب مدھیہ پردیش میں بھی یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی یہ کوشش ملک گیر سطح پر مسلم پرسنل لا اور مذہبی آزادی کے قوانین میں تبدیلی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اقلیتی حلقوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی جانب سے اس طرح کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ پرسنل لا میں مداخلت کو مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی سیشن کے دوران اس بل کی قانونی حیثیت اور اپوزیشن کے ردعمل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔




