بنگلورو: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور آٹو گیس (ایل پی جی) کی قلت کے باعث بنگلورو شہر میں روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر آٹو رکشا ڈرائیور اور چھوٹے ہوٹل و ٹفن سینٹر چلانے والے افراد شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا روزگار بڑی حد تک ایل پی جی پر منحصر ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے گھریلو سلنڈروں کو ترجیح دینے کے باعث کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جس سے کھانے پینے کے کاروبار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ بلیک مارکیٹ میں 19 کلوگرام کمرشل سلنڈر کی قیمت 1800 روپے سے بڑھ کر 5000 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گھریلو سلنڈر بھی 1000-1100 روپے سے بڑھ کر تقریباً 3500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
متعدد ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ وہ مہنگے داموں سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض افراد گھریلو سلنڈروں کے ذریعے کاروبار چلا رہے ہیں۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کچھ دکانداروں نے متبادل ایندھن کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ ایس جی پالیا کے ایک ٹفن سینٹر نے ایل پی جی کے بجائے کوئلے کا استعمال شروع کر دیا ہے، جہاں روزانہ تقریباً 30 کلو کوئلہ 1400 روپے میں خریدا جا رہا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کھانے کی قیمتوں پر بھی پڑے ہیں، اور بیشتر ہوٹلوں میں اشیاء کی قیمتوں میں 5 سے 10 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی اشیاء کی تیاری بھی کم کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب آٹو ڈرائیور بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ایل پی جی کی قلت کے باعث انہیں لمبی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ ایک آٹو ڈرائیور کے مطابق وہ پہلے روزانہ تقریباً 1000 روپے کماتا تھا، جو اب گھٹ کر 600 روپے رہ گئی ہے۔
سرکاری کمپنیوں کے ایل پی جی آؤٹ لیٹس پر قیمتیں 65 روپے سے بڑھ کر 90 روپے فی لیٹر تک پہنچی ہیں، جبکہ نجی کمپنیاں 120 روپے تک وصول کر رہی ہیں۔ طلب کے مقابلے میں سپلائی کم ہونے کے باعث ایندھن چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے اور اگلی سپلائی کا کوئی واضح وقت نہیں ہوتا۔
ریاست کے دیگر شہروں جیسے منڈیا اور میسور میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں کئی پٹرول پمپس پر “اسٹاک ختم” کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ آٹو ڈرائیوروں کو ایندھن حاصل کرنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
بنگلورو کے بعض علاقوں میں حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ پولیس کو ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔ شیشادری پورم اور ڈوملور میں ایل پی جی کے لیے لمبی قطاروں کے باعث سڑکوں پر بھیڑ بڑھ گئی، یہاں تک کہ صبح سویرے چار بجے سے ہی لائنیں لگ گئیں۔
