مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے مضافاتی علاقے جادھو پور سے اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور ان کے بنیادی معاشی حقوق پر حملہ کرنے کا ایک انتہائی تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ جادھو پور میں بجrang دل کے مبینہ ارکان نے مسلم گوشت تاجروں کو کھلے عام دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یا تو اپنا کاروبار فوری طور پر بند کر دیں یا اس علاقے سے کوچ کر جائیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بجrang دل کا ایک کارندہ مسلم دکانداروں کے خلاف انتہائی جارحانہ، نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے مقامی اقلیتی تاجروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی اس ویڈیو میں بجrang دل کا کارندہ مسلم تاجروں سے سوال کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے کہ جب اس علاقے میں ہندوؤں کی اکثریت ہے تو وہ یہاں گوشت کیوں بیچ رہے ہیں اور جانوروں کو کیوں ذبح کر رہے ہیں۔ اس شخص نے دکانداروں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اب ریاست میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے دن ختم ہو چکے ہیں، اس لیے یہاں حلال گوشت کی فروخت بند کر کے جلد سے جلد اس جگہ کو خالی کر دیا جائے۔ ویڈیو میں مسلم دکانداروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ملک پور جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں منتقل ہو جائیں۔ اگرچہ اس ویڈیو کی درست تاریخ اور مینوفیکچرنگ کی جگہ کے حوالے سے اب تک انتظامیہ نے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن اس واقعے نے علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مغربی بنگال میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کے بعد مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور ہراساں کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق، صرف مئی کے مہینے میں ریاست کے مختلف حصوں سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے کم از کم 10 ایسے ہی سنگین واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست کے لیے مذہبی پولرائزیشن کو ہوا دی جا رہی ہے، جس کا سیدھا اثر غریب اور محنت کش مسلمانوں کے روزگار پر پڑ رہا ہے۔
اس تنازع کو اس وقت مزید ہوا ملی جب نندی گرام سے بی جے پی کے سینئر رہنما اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سویندو ادھیکاری نے ایک عوامی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ان ہندوؤں کے لیے کام کریں گے جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر کامیاب بنایا ہے۔ سویندو ادھیکاری کے اس متعصبانہ اور آئینی عہدے کے منافی بیان کے بعد ہندوتوا تنظیموں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں اور وہ مختلف مقامات پر اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ جادھو پور کا یہ حالیہ واقعہ بھی اسی سیاسی شہ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور کولکتہ کے سیکولر شہریوں نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ممتا بنرجی کی قیادت والی ریاستی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ویڈیو میں نظر آنے والے شرپسند عناصر کی فوری شناخت کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہندوستانی شہری کو آئین کے تحت ملک کے کسی بھی حصے میں اپنی پسند کا قانونی کاروبار کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اور مذہب کے نام پر کسی کے روزگار کو چھیننے کی کوشش کرنا ملک کے وفاقی اور جمہوری نظام پر ایک بڑا حملہ ہے۔




