اسفہان میں ہزاروں سوگوار جمع، اسرائیلی حملہ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر ایران میں سات روزہ عام تعطیل اور چالیس روزسوگ کا اعلان

امریکی اسرائیلی حملہ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کےموت کی تصدیق کے بعد ایران کے تاریخی شہر اسفہان میں ہزاروں افراد پر خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوگئے۔ سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق اسفہان کے معروف نقشِ جہاں اسکوائر میں بڑے پیمانے پر اجتماع ہوا جہاں شہریوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے سپریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای ہفتے کی علی الصبح تہران میں اپنے دفتر میں سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے کہ اسی دوران مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حملے میں ان کی موت واقع ہوگئے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں اس واقعے کو “عظیم جرم” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ عظیم جرم ہرگز بے جواب نہیں رہے گا اور اسلامی دنیا و عالمِ تشیع کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔”

صدر نے مزید کہا کہ “اس مرتبہ بھی پوری قوت اور عزم کے ساتھ، اسلامی امت اور دنیا کے آزاد لوگوں کی حمایت سے، اس جرم کے منصوبہ سازوں اور کمانڈرز کو پچھتانے پر مجبور کریں گے۔”

حکومتِ ایران نے ملک بھر میں سات روزہ عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی متوقع ہے۔