کیرالہ : کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک مندر میں دو عیسائی پادریوں کے داخلے کو چیلنج کرنے والی عرضی مسترد کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کیرالہ ہندو عوامی عبادت گاہوں (داخلے کی اجازت) کے قوانین کی ایک شق پر نظرِ ثانی کرے، جس میں مندروں میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
عدالت نے کہا کہ پیرنٹ ایکٹ اور قواعد کی شق 3(a) کے درمیان واضح تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ ایکٹ میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے، جبکہ قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ڈویژن بنچ نے حکومت سے کہا کہ وہ مذہبی اسکالروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے کہ آیا اس شق کو برقرار رکھا جائے یا اس میں ترمیم کی جائے۔
یہ معاملہ اڈور کے سری پارتھا سارتھی مندر سے متعلق تھا، جہاں 2023 میں دعوت پر دو عیسائی پادریوں کے داخلے کے خلاف ایک عقیدت مند نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ مندر کے زیر انتظام دیواسووم بورڈ نے وضاحت دی کہ پادریوں کو مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا اور ان کے داخلے کی اجازت مندر کے چیف پجاری نے دی تھی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ قانون جامد نہیں بلکہ وقت اور سماج کی بدلتی ہوئی ضروریات کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتا ہے، اور قانونی تشریحات میں آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی قانون اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد میں تضاد ہو تو قانون کو فوقیت حاصل ہوگی۔
