سعودی عرب میں عمرہ سے واپسی پر بھیانک سڑک حادثہ، کیرالا کے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق، تین بیٹیوں کی حالت نازک  

سعودی عرب کے مدینہ کے نزدیک پیش آنے والے سڑک حادثے میں کیرلہ کے ضلع ملاپرم کے منجیری کے رہائشی گھرانے کے چار افراد جاں بحق ہو گئے، جو عمرہ کی ادائیگی کے بعد کار میں سفر کر رہے تھے۔ حادثے میں عبد الجلیل، ان کی والدہ، اہلیہ اور 14 سالہ بیٹا موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ تین کمسن بیٹیاں تشویشناک حالت میں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ مقامی برادری اور خلیجی ممالک میں مقیم کیرلہ کے تارکینِ وطن غم و اندوہ میں مبتلا ہیں اور میتوں کی وطن واپسی کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔

سعودی عرب کے مدینہ کے نزدیک شاہراہ پر ہفتہ 3 جنوری کی شام تقریباً 6 بجے کے قریب یہ دل خراش حادثہ اس وقت پیش آیا جب خاندان کی کار ہائی وے پر ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خاندان عمرہ کی ادائیگی کے بعد مکہ مکرمہ سے جدہ کی سمت سفر کر رہا تھا کہ مدینہ کے قریب ان کی گاڑی کو یہ حادثہ پیش آیا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے حادثے کی حتمی وجہ تاحال سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی۔

حادثہ میں جان گنوانے والوں میں 52 سالہ عبد الجلیل، ان کی 73 سالہ والدہ میمونتھ ککنگل، 40 سالہ اہلیہ تھسنا تھوڈینگل، اور 14 سالہ بیٹا عادل (آدھل) جلیل شامل ہیں، جو کیرلہ کے ضلع ملاپرم کے منجیری کے ویلِلا علاقے کے رہائشی تھے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ٹکر اتنی شدید تھی کہ چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے اور گاڑی بری طرح تباہ ہو گئی۔

حادثے میں عبد الجلیل کی تین بیٹیاں عائشہ، ہادیہ اور نورہ شدید زخمی ہوئیں، جنہیں فوری طور پر سعودی عرب کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ تینوں بچیاں تشویشناک حالت میں آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں اور انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی صحت کے بارے میں مزید معلومات مرحلہ وار فراہم کی جا رہی ہیں۔

عبد الجلیل کئی برسوں سے جدہ میں ملازمت کر رہے تھے اور ان کے اہل خانہ حال ہی میں خصوصی طور پر عمرہ کی ادائیگی کے لیے سیاحتی ویزا پر سعودی عرب پہنچے تھے۔ بتایا گیا کہ خاندان نے عمرہ مکمل کر لیا تھا اور واپسی کے سفر کے دوران ہی یہ المناک حادثہ پیش آیا، جس کی خبر ملتے ہی منجیری کے ویلِلا علاقے اور ملاپورم میں کہرام مچ گیا، رشتہ دار، اہلِ محلہ اور مقامی رہنما بڑی تعداد میں گھر پر جمع ہو کر غم زدہ خاندان سے تعزیت کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں موجود کیرلہ اور بھارتی کمیونٹی کی تنظیمیں قانونی کارروائی، اسپتال اور حکام سے رابطے، اور میتوں کی تدفین یا ممکنہ طور پر لاشوں کی وطن واپسی (ریپٹری ایشن) کے متعلق ضوابط مکمل کرنے میں خاندان کی مدد کر رہی ہیں۔ سفارتی سطح پر بھی ضروری کارروائی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم سرکاری طور پر آخری رسومات سعودی عرب میں ادا ہوں گی یا میتوں کو کیرلہ لایا جائے گا، اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔