کیرالا انتخابات میں فرقہ وارانہ مہم، بی جے پی امیدواروں کا “ہندو ایم ایل اے” کامتنازع نعرہ


کیرالا اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض امیدواروں کی انتخابی مہم نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے، جہاں ووٹروں سے “ہندو ایم ایل اے” منتخب کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اس مہم کو ناقدین نے کھلے عام فرقہ وارانہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس کے ذریعے مسلم برادری اور ان کے منتخب نمائندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے ریاست کی روایتی سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ معاملہ خاص طور پر گرووایور اور الووا اسمبلی حلقوں میں سامنے آیا ہے، جہاں بی جے پی کے سینئر لیڈر B Gopalakrishnan نے اپنی تقاریر میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس حلقے میں کوئی ہندو ایم ایل اے منتخب نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک اہم مذہبی مقام کی نمائندگی ہندو قانون ساز کے پاس کیوں نہیں ہے، اور الزام عائد کیا کہ دیگر سیاسی اتحاد ہندو امیدواروں کو نظر انداز کرتے ہیں۔

ان بیانات کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا جب انتخابی ہورڈنگز میں ماضی کے منتخب نمائندوں کی فہرست اس انداز میں پیش کی گئی جسے ناقدین نے مذہبی بنیادوں پر ووٹروں کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ہورڈنگز میں سبز اور بھگوا رنگوں کا استعمال اور مخصوص ناموں کا اخراج بھی سوالات کی زد میں آ گیا، جسے سیاسی مبصرین نے ایک منظم بیانیہ سازی قرار دیا۔

معاملہ بڑھنے پر Election Commission of India میں شکایت درج کرائی گئی، جس کے بعد پولیس نے بی جے پی امیدوار کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔ ان پر بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ 192 اور نمائندگیِ عوام ایکٹ 1951 کی دفعہ 125 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جو مذہبی بنیادوں پر نفرت پھیلانے سے متعلق ہیں۔ اس کے باوجود امیدوار نے اپنے بیانات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنی مہم جاری رکھیں گے۔

اسی دوران Kerala High Court نے بھی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے۔ سیاسی جماعتوں اور شہری تنظیموں نے اس مہم کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر انڈین یونین مسلم لیگ کے رہنماؤں نے اس مہم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنا اب ایک انتخابی ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سیاست نہ صرف آئینی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ریاست کے سماجی تانے بانے کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

کچھ مقامی ووٹروں نے بھی اس مہم پر تشویش ظاہر کی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی حلقے میں صرف ایک مخصوص برادری کے نمائندے منتخب ہوتے رہے ہیں تو وہاں اس طرح کی مہم کیوں نہیں چلائی جاتی۔ ان کے مطابق نمائندوں کو مذہب کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو کیرالا ہمیشہ سے مذہبی ہم آہنگی اور سیاسی بیداری کے لیے جانا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ انتخابی مہم نے اس روایت کو چیلنج کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی فرقہ وارانہ سیاست کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کیرالا کے انتخابات صرف سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ اس بات کا امتحان بھی ہیں کہ کیا ریاست اپنی سیکولر شناخت کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔