کے سی تیاگی نے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) سے  استعفیٰ دے دیا

گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنی ہی پارٹی کے خلاف بیان دے کر سرخیوں میں رہنے والے کے سی تیاگی نے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کے سی تیاگی نے اپنا استعفیٰ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی رکنیت نہیں لیں گے۔ جے ڈی یو کو بھیجے گئے استعفیٰ میں کے سی تیاگی نے اپنے مستقبل کے منصوبے کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 22 مارچ کو وہ اپنے حامیوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کریں گے۔

کے سی تیاگی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’30 اکتوبر 2003 کو جے ڈی یو کا قیام عمل میں آیا تھا، سمتا پارٹی اور جنتا دل کا انضمام ہوا تھا۔ جارج فرنانڈیز نے صدر اور میں نے جنرل سکریٹری کے طور پر ایک ساتھ کام کیا۔ میں نے شرد یادو اور نتیش کمار کی صدارت میں بھی کام کیا۔ میں پارٹی کا چیف ترجمان اور سیاسی مشیر بھی رہا۔ اب پارٹی کی رکنیت سازی کی مہم ختم ہو گئی ہے اور میں نے دوبارہ پارٹی کی رکنیت نہیں لی ہے۔ نتیش کمار کے لیے میرا احترام کبھی کم نہیں ہوگا۔‘‘

جے ڈی یو کے سابق سینئر لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’میرے کچھ سیاسی ساتھیوں، حامیوں اور ورکروں نے 22 مارچ کو ایک میٹنگ طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ میں جلد ہی آگے کی حکمت عملی پر فیصلہ لوں گا۔‘‘ واضح رہے کہ کے سی تیاگی کا تعلق بنیادی طور پر اترپردیش سے ہے۔ مغربی یوپی میں ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹ میں کہا جا رہا ہے کہ کے سی تیاگی اب اترپردیش کی سیاست کا رخ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ کے سی تیاگی کا شمار جے ڈی یو کے پرانے اور قد آور رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ کے سی تیاگی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی بھی مانے جاتے تھے۔ وہ جے ڈی یو کے حق میں ہر اسٹیج پر مضبوطی سے اپنی بات بھی رکھتے تھے۔ رواں سال انہوں نے نتیش کمار کو ’بھارت رتن‘ دیے جانے کا مطالبہ بھی اٹھایا تھا اور وزیر اعظم مودی کو خط لکھا تھا۔ حالانکہ طویل عرصے سے جے ڈی یو نے کے سی تیاگی سے دوری اختیار کر رکھی تھی اور ’بھارت رتن‘ معاملہ پر بھی جے ڈی یو نے خود کو ان سے الگ کر لیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ کے سی تیاگی نے آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے ہٹانے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ اس کے علاوہ فلسطین کے معاملے پر بھی وہ ہندوستانی حکومت کے اسٹینڈ سے الگ کھڑے نظر آئے تھے۔ گزشتہ کافی وقت سے پارٹی کے سی تیاگی کو توجہ نہیں دے رہی تھی، جس سے اس بات کا اشارہ مل رہا تھا کہ اب وہ پارٹی میں نہیں ہیں۔ اب کے سی تیاگی نے خود ہی جے ڈی یو سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا ہے۔