اتر کنڑا ضلع میں کئی دہائیوں سے زیرِ انتظار سوپر اسپیشلٹی اسپتال کے قیام کا منصوبہ اب مقام کے تنازع کی وجہ سے بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ریاستی اسمبلی میں اس معاملے پر زبردست بحث دیکھنے میں آئی کہ یہ جدید اسپتال کہاں تعمیر کیا جانا چاہیے۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے حالیہ بجٹ میں اعلان کیا تھا کہ ضلع کے صدر مقام کاروار میں جدید سہولیات سے آراستہ سوپر اسپیشلٹی اسپتال قائم کیا جائے گا۔ تاہم اس اعلان کے بعد ضلع کے دیگر علاقوں کے نمائندوں کی جانب سے اسپتال کے مقام کو لے کر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کمٹہ کے رکن اسمبلی دنکر شیٹی نے اسمبلی میں موقف اختیار کیا کہ اگرچہ حکومت کا اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ قابلِ ستائش ہے، لیکن جغرافیائی اعتبار سے کاروار ضلع کے انتہائی سرے پر واقع ہے، جس کی وجہ سے دیگر تعلقوں کے عوام کو وہاں پہنچنے میں دشواری ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمٹہ ضلع کے وسط میں واقع ہے، اس لیے اگر یہاں اسپتال قائم کیا جائے تو سرسی، سدداپور، بھٹکل اور انکولا کے لوگوں کو بھی زیادہ سہولت حاصل ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کمٹہ میں ریلوے اسٹیشن موجود ہے جس سے مریضوں کے لیے آمدورفت آسان ہو سکتی ہے۔
دنکر شیٹی نے مزید کہا کہ مادن گیری کے علاقے میں کرناٹک انڈسٹریل ایریاز ڈیولپمنٹ بورڈ (KIADB) کی تقریباً 1800 ایکڑ زمین دستیاب ہے، جہاں اسپتال تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اس مقام کا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ انکولا کے قریب ہونے کے باعث کاروار حلقے کے عوام کے لیے بھی قابلِ رسائی ہوگا۔
دوسری جانب ریاست کے وزیر برائے طبی تعلیم ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے اسمبلی میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کمٹہ میں الگ سے سوپر اسپیشلٹی اسپتال قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اسپتال کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے میڈیسن، سرجری اور دیگر بنیادی شعبوں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے، جو کمٹہ میں فی الحال دستیاب نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کاروار میں پہلے سے میڈیکل کالج اور 450 بستروں پر مشتمل ملٹی اسپیشلٹی اسپتال موجود ہے، اس لیے اگر سوپر اسپیشلٹی اسپتال وہیں قائم کیا جائے تو بنیادی طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی آسان ہو جائے گی۔
وزیر نے مزید کہا کہ اتر کنڑا ضلع میں ماہر ڈاکٹروں کو خدمات کے لیے راغب کرنا پہلے ہی ایک چیلنج ہے۔ اگر کاروار کے علاوہ کسی دوسرے مقام پر نیا اسپتال بنایا گیا تو وہاں ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے منصوبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایک طرف ضلع کے وسطی علاقوں کے عوام کا مؤقف ہے کہ کاروار دور ہونے کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات پیش آئیں گی، جبکہ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے اور طبی سہولیات کے لحاظ سے کاروار ہی موزوں مقام ہے۔
فی الحال ضلع کے مریض سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے منگلورو، منی پال، ہبلی یا گوا کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں سوپر اسپیشلٹی اسپتال کا قیام ضلع کے عوام کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
