کرناٹک ضمنی انتخابات نتائج :باگلکوٹ میں کانگریس کی جیت ، داونگیرے ساؤتھ میں بھی سبقت برقرار

کرناٹک کے ضلع باگلکوٹ میں ہونے والے اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جہاں حکمراں جماعت کانگریس نے اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ کانگریس کے امیدوار اومیش میٹی نے ووٹوں کی گنتی کے پہلے مرحلے سے ہی اپنے حریفوں پر سبقت حاصل کر لی تھی جو آخری راؤنڈ تک برقرار رہی۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے تجربہ کار لیڈر اور سابق ایم ایل اے ویرنا چرنتی مٹھ کو ایک سخت مقابلے کے بعد شکست دے کر اپنی جیت درج کرائی ہے۔

یہ نشست کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ایچ وائی میٹی کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ پارٹی نے ہمدردی کی لہر اور مقامی اثر و رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بیٹے اومیش میٹی کو انتخابی میدان میں اتارا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس جیت میں نہ صرف خاندانی پس منظر بلکہ ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں اور نچلی سطح پر کی گئی انتخابی مہم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس انتخابی مہم کی قیادت خود وزیر اعلیٰ سدارامیا اور سینئر وزیر ستیش جارکی ہولی کر رہے تھے، جنہوں نے باگلکوٹ میں ڈیرے ڈال کر پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش پیدا کیا تھا۔ کانگریس کی اس جیت کو ریاستی قیادت بالخصوص وزیر اعلیٰ سدارامیا کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ بی جے پی نے اس سیٹ کو چھیننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا اور اپنے قد آور لیڈروں کو مہم میں جھونک دیا تھا۔

کرناٹک کے ضلع داونگیرے کی جنوبی اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کے رجحانات سامنے آنے لگے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کے 14 ویں راؤنڈ کی تکمیل کے بعد کانگریس کے امیدوار سمرتھ ملیکارجن نے اپنے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار پر نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔ انتخابی مرکز سے موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق کانگریس کو اب تک 46,460 ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ بی جے پی کے امیدوار سری نواس داساکاریاپا 39,037 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس طرح کانگریس کو 7,423 ووٹوں کی اہم سبقت حاصل ہو گئی ہے۔

اس انتخاب میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے امیدوار افسر کوڈلی پیٹے کی کارکردگی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جنہوں نے اب تک 15,303 ووٹ حاصل کر کے تیسری پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اقلیتی ووٹوں کی تقسیم اور ایس ڈی پی آئی کی موجودگی نے روایتی انتخابی مساوات کو متاثر کیا ہے، تاہم اب تک کے نتائج کانگریس کے حق میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

شیئر کریں۔