بنگلورو(فکروخبرنیوز) کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کو لے کر جاری سیاسی رسہ کشی کے درمیان وزیر اعلیٰ سدھارامیا کے قریبی ساتھی اور ریاستی وزیر کے این راجنا نے ایک چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ راجنا نے منگل کے روز بنگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر راہل گاندھی ہدایت دیں تو وزیر اعلیٰ سدھارامیا اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
کے این راجنا، جنہیں سدھارامیا کا انتہائی بااعتماد مانا جاتا ہے، نے اعتراف کیا کہ قیادت کی تبدیلی کے معاملے پر پارٹی کے اندر الجھن اور بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "سدھارامیا جہاں اقتدار جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہیں وہ ہائی کمان کے حکم پر کرسی چھوڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے کہ وہ راہل گاندھی کے ہر فیصلے پر لبیک کہیں گے۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سدھارامیا کے دیگر قریبی وزراء، ستیش جارکی ہولی اور ایچ سی مہادیوپا دہلی پہنچ چکے ہیں۔ دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ان دونوں رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ ریاست میں قیادت کو لے کر جاری ابہام کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ راجنا نے بھی اس موقع پر "اہندا” (AHINDA – اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور دلتوں کا اتحاد) گروہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقات فی الحال مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے ایک بار پھر دلت وزیر اعلیٰ کے حق میں آواز بلند کی ہے۔
کے این راجنا نے سدھارامیا کی 2013-18 کی پہلی مدتِ کار اور موجودہ دور (2023-26) کے درمیان واضح فرق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں وقت کے ساتھ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ہائی کمان پر زور دیا کہ اس غیر یقینی صورتحال کو طوالت نہ دی جائے کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ریاست کی ترقی اور پارٹی کے مستقبل پر پڑ رہا ہے۔
راجنا نے سدھارامیا کے فلسفیانہ انداز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "اقتدار مستقل نہیں ہے، جو اسے کھو دیتے ہیں وہ اسے دوبارہ حاصل بھی کر سکتے ہیں۔” اب دیکھنا یہ ہے کہ دہلی میں ڈیرے ڈالے بیٹھے کرناٹک کے وزراء اور راہل گاندھی کا حتمی فیصلہ ریاست کی سیاست کو کس سمت لے جاتا ہے۔
ٹی این ایم کے ان پٹ کے ساتھ




