کرناٹک حکومت کا  VB-G RAM G ایکٹ نافذ کرنے سے انکار، عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

کرناٹک کی ریاستی کابینہ نے جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں Viksit Bharat–Guarantee for Rozgar and Ajeevika Mission (Gramin) Act 2025، یعنی VB-G RAM G Act کو نافذ نہ کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا، جسے مرکزی حکومت نے MGNREGA 2005 کی جگہ متعارف کرایا ہے۔ قانون و پارلیمانی امور کے وزیر ایچ کے پٹیل نے میڈیا کو بتایا کہ ریاست عدالت میں اس کی آئینی حیثیت چیلنج کرے گی اور ’’عوامی عدالت‘‘ میں بھی اس کی مخالفت کرے گی تاکہ دیہی شہریوں میں شعور اجاگر ہو۔
کابینہ کا مؤقف ہے کہ یہ قانون دیہی شہریوں کے کام اور روزگار کے بنیادی حقوق کو کمزور کرتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 21 (حیات اور ذاتی آزادی کا حق) کے تحت محفوظ ہیں، اور MGNREGA کی قانونی ضمانت کو ختم کر کے دیہی مزدوروں کو بے سہارا کر دیتا ہے۔
پنچایتوں کے حقوق اور 73ویں ترمیم
کابینہ نوٹ میں واضح کیا گیا کہ VB-G RAM G Act پنچایتی راج اداروں کے آئینی حقوق پر ’’پاؤں رکھتا ہے‘‘ اور 73ویں و 74ویں آئینی ترامیم کی روح کے خلاف ہے، کیونکہ مقامی سطح پر نیچے سے اوپر کی منصوبہ بندی (باٹم اپ پلاننگ) ختم ہو جاتی ہے اور مرکزی حکومت اکیلے کاموں کی فہرست اور شرائط طے کرتی ہے۔
ریاست کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں مرکزی سطح پر کاموں کی نوٹیفکیشن اور اجرت کی شرح طے ہوگی، جبکہ ریاستیں 40 فیصد اخراجات برداشت کریں گی بغیر اس کے کہ دیہی مزدوروں کو ریاست کی طرف سے طے کردہ کم از کم اجرت کی ضمانت ملے، جو سماجی اور معاشی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
VB-G RAM G Act کا پس منظر
VB-G RAM G Act 2025، یعنی Viksit Bharat–Guarantee for Rozgar and Ajeevika Mission (Gramin) Act، کو مرکزی حکومت نے دیہی روزگار اور معاشرے کے نئے فریم ورک کے طور پر متعارف کیا، جو طویل عرصے سے چل رہے Mahatma Gandhi National Rural Employment Guarantee Act (MGNREGA) 2005 کی جگہ لے گا۔
یہ بل دسمبر 2025 میں پارلیمنٹ کے ونٹر سیشن میں پیش ہوا، جہاں لوک سبھا نے 18 دسمبر اور راجیہ سبھا نے 19 دسمبر کی آدھی رات کے بعد پاس کیا، صدارتی منظوری 21 دسمبر کو ملنے کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو گیا۔
مرکزی قانون کی تنقید
مرکزی قانون کے تحت کام صرف مرکزی نوٹیفکیشن والے علاقوں میں دستیاب ہوں گے، اجرت مرکزی شرح پر ہوگی اور ریاستیں مالی شراکت کے باوجود مقامی ضروریات پر کنٹرول کھو دیں گی، جسے کرناٹک سمیت کئی ریاستیں دیہی ترقی کی وفاقی روح کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔
حکومت نواز حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ’’وِکِسِت بھارت‘‘ کے ویژن کا حصہ ہے، مگر مخالفین اسے ریاستی خودمختاری اور دیہی مزدوروں کے حقوق پر حملہ بتاتے ہیں، جس سے وفاقی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی اور قانونی اثرات
کرناٹک کا اقدام مرکزی حکومت اور ریاستیں کے مابین دیہی روزگار پالیسی پر ایک نئی کشمکش کو جنم دے رہا ہے، جہاں دیگر کانگریس یا اتحادی حُکُومتیں بھی اس کی تقلید کر سکتی ہیں، خاص طور پر جنوبی ریاستوں میں جہاں MGNREGA کو دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔
قانون کے خلاف عدالت جانا نہ صرف آئینی چیلنج لائے گا بلکہ دیہی انتخابی سیاست میں بھی مرکزی حکومت کے خلاف بیانیہ مضبوط کرے گا، جبکہ عوامی آگاہی مہم دیہی ووٹرز کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔