کرناٹک میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون نافذ، گورنر کی منظوری


کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف اہم قانون کو منظوری دے دی ہے، جسے ویچنکار بساونا کی شاعری سے ماخوذ نام "ایوا نمماوا بل” دیا گیا ہے۔

یہ بل مارچ میں کرناٹک مقننہ کے بجٹ اجلاس کے دوران منظور ہوا تھا، اور گورنر نے اسے دیگر نو قوانین کے ساتھ منظوری فراہم کی۔ اسمبلی میں اس قانون کو بی جے پی کی مخالفت کے درمیان منظور کیا گیا تھا، جبکہ قانون ساز کونسل میں اسے متفقہ طور پر منظوری حاصل ہوئی۔

قانون ساز کونسل میں بل پیش کرتے ہوئے وزیر قانون ایچ کے پاٹل نے کہا تھا کہ موجودہ قوانین بین ذات شادی کرنے والے جوڑوں کو مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مخصوص قانون نہ ہونے کے باعث ایسے جرائم میں ملوث افراد اکثر سخت سزا سے بچ نکلتے ہیں اور متاثرین کو مناسب بحالی نہیں مل پاتی۔

نئے قانون کے تحت بین ذات شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے ایک جامع حفاظتی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جنہیں اپنے خاندان یا دیگر عناصر کی جانب سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس ایکٹ کے مطابق ان کی حفاظت کی ذمہ داری ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی، اور اس حوالے سے فوری اقدامات کے لیے واضح رہنما خطوط اور وقت کی حد مقرر کی گئی ہے۔

قانون کے تحت ہر ضلع میں متاثرہ جوڑوں کے لیے محفوظ رہائش گاہیں قائم کی جائیں گی، جہاں انہیں سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی مدد اور سماجی تنظیموں سے رابطے کی سہولت بھی دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ قانون ریاست میں غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کی روک تھام اور متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔