کرناٹک میں ڈائیلاسز مریضوں کے لیے جدید نظام متعارف، مصنوعی ذہانت سے علاج کے معیار میں بہتری کی امید

بنگلورو (فکروخبرنیوز) کرناٹک کے وزیر صحت دنیش گنڈو راؤنے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے مانیٹرنگ سسٹم کے آغاز سے ریاست میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے ڈائیلاسز پروگرام میں مریضوں کی حفاظت اور علاج کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

یہ جدید نظام کے سی جنرل ہاسپٹل ، بنگلورو میں باقاعدہ طور پر شروع کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر صحت نے کہا کہ اس طرح کی جدید ٹیکنالوجی پی پی پی ماڈل کے تحت فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو نجی اسپتالوں کے معیار کے برابر لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ نظام معروف طبی ادارہ نیپرو پلس کی جانب سے متعارف کرایا گیا ہے، جو ڈائیلاسز کے دوران مریضوں کے اہم طبی اشاریوں جیسے بلڈ پریشر، جسم سے سیال کے اخراج اور الیکٹرولائٹ توازن کی حقیقی وقت میں نگرانی کرتا ہے، تاکہ علاج کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔

ابتدائی مرحلے میں یہ نظام سات ڈائیلاسز مراکز میں نافذ کیا گیا ہے، جہاں یہ پلیٹ فارم 28 اہم پہلوؤں کی نگرانی کرتا ہے، جن میں مریضوں کی دیکھ بھال، حفاظت، بستر کی دستیابی، عملے کی کارکردگی، ہنگامی تیاری، انفیکشن کنٹرول اور صفائی ستھرائی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روایتی آڈٹ کے طریقہ کار کی جگہ لے کر مسلسل نگرانی کو ممکن بناتی ہے، جس سے شفافیت اور مؤثر انتظامی نظام کو فروغ ملے گا۔ اس کے ذریعے طبی عملہ اور منتظمین ڈیٹا کی بنیاد پر فوری اور بہتر فیصلے کر سکیں گے۔

اس موقع پر نیفروپلس کے سی ای او روہت سنگھ نے کہا کہ ڈائیلاسز کے مریضوں کے لیے مسلسل نگرانی نہایت ضروری ہے، اور اے آئی پر مبنی نظام علاج کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

تقریب کے دوران جدید ڈیش بورڈ کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا، جس میں ڈائیلاسز کے عمل کی براہ راست نگرانی دکھائی گئی۔