کرناٹک ضمنی انتخابات سے قبل گارنٹی اسکیموں کی رقم روکنے سے ہائی کورٹ کا انکار


کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ریاستی حکومت کی فلاحی گارنٹی اسکیموں کی رقم کو ضمنی انتخابات تک روکنے یا ملتوی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے کسی حکم سے سب سے زیادہ نقصان پسماندہ طبقات کو ہوگا، اس لیے فوری طور پر اسکیموں کو روکنا مناسب نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس سچن شنکر مگدم کی سنگل بنچ نے اس درخواست پر سماعت کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بگالکوٹ اور داونگیرے جنوبی اسمبلی حلقوں میں 9 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل حکومت کو گارنٹی اسکیموں کے تحت رقم کی تقسیم روک دینی چاہیے۔ درخواست گزار، جو خود داونگیرے جنوبی حلقے سے آزاد امیدوار ہیں، نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نقد اور اشیاء کی شکل میں دی جانے والی سہولیات انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اسکیمیں نئی نہیں ہیں بلکہ پہلے سے جاری ہیں، اس لیے انہیں اچانک روکنا مناسب نہیں ہوگا۔ عدالت نے درخواست گزار کو یہ بھی متنبہ کیا کہ اس طرح کی درخواست ان کے انتخابی امکانات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل نے سختی سے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عرضی بدنیتی پر مبنی ہے اور قانونی عمل کا غلط استعمال ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن کے پاس مکمل اختیار ہے کہ اگر کوئی خلاف ورزی ہو تو وہ کارروائی کرے۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکیموں کے مستحقین پہلے ہی طے شدہ ہیں اور کسی نئے فرد کو شامل نہیں کیا جا رہا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ داونگیرے میں ہزاروں افراد ان اسکیموں سے مستفید ہو رہے ہیں، جن میں گروہا لکشمی، یووا ندھی اور انا بھاگیہ جیسی اسکیمیں شامل ہیں۔ حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام فلاحی اقدامات آئین کے ہدایتی اصولوں کے تحت کیے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اس معاملے پر چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کرے گا، جس کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔ اس پر حکومت نے کہا کہ کمیشن کے پاس مکمل اختیار ہے اور اگر کوئی خلاف ورزی ہوگی تو وہ خود کارروائی کرے گا۔

پس منظر کے طور پر یہ تمام گارنٹی اسکیمیں 2023 میں کانگریس حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد نافذ کی گئی تھیں، جن کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کو مالی و سماجی سہولت فراہم کرنا ہے۔

اس فیصلے کے اثرات براہ راست ان لاکھوں مستحق افراد پر پڑیں گے جو ان اسکیموں پر انحصار کرتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ انتخابات کے دوران بھی فلاحی اسکیمیں جاری رہ سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ پہلے سے نافذ ہوں اور نئے فائدہ اٹھانے والوں کو شامل نہ کیا جائے۔

آخر میں عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں تفصیلی جواب داخل کرے، جبکہ سماعت کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ دونوں حلقوں میں ضمنی انتخابات 9 اپریل کو منعقد ہوں گے، جس پر اب سب کی نظریں مرکوز ہیں۔