بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک حکومت نے سڑک حادثات کی روک تھام اور دو پہیہ گاڑی سواروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہاف ہیلمٹ کی تیاری، فروخت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت اس سلسلے میں متعلقہ افراد پر جرمانے عائد کرنے اور قانونی کارروائی کے امکانات پر غور کررہی ہے۔ اس بات کی اطلاع ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ بیراتی سریش نے ودھان سودھا میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران دی۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ حکومت ہاف ہیلمٹ تیار کرنے والے اداروں اور انہیں فروخت کرنے والے تاجروں کے خلاف کارروائی کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ بالخصوص ایسے دکانداروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو اپنی دکانوں میں ہاف ہیلمٹ فروخت کرتے ہیں یا فروخت کی غرض سے انہیں ذخیرہ کرکے رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہاف ہیلمٹ کے استعمال سے لاحق خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے ہیلمٹ دو پہیہ گاڑی سواروں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ ان میں سر کے بعض حصوں کے ساتھ کان اور گردن کا حصہ بھی کھلا رہتا ہے، جس کے باعث حادثات کی صورت میں شدید چوٹیں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ ہاف ہیلمٹ عام طور پر مکمل حفاظتی ہیلمٹ کے مقابلے میں کم قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض دو پہیہ گاڑی سوار انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم کم قیمت ہونے کے باوجود حفاظتی نقطۂ نظر سے یہ مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح سڑکوں پر سفر کرنے والے افراد کی جانوں کا تحفظ ہے اور اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے اس موقع پر فٹ پاتھ پر دو پہیہ اور دیگر گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ فٹ پاتھ پر گاڑی چلانے کی خلاف ورزی پہلی مرتبہ کرنے والوں پر 5 ہزار روپے اور دوبارہ یہی غلطی دہرانے والوں پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کے سلسلہ میں حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ ان کے مطابق فٹ پاتھ بنیادی طور پر پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، لیکن بعض گاڑی سوار ٹریفک سے بچنے یا جلدی آگے نکلنے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں، جس سے راہ گیروں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس دوران وزیر ٹرانسپورٹ نے متعلقہ افسران کو ٹریفک نظام میں بہتری لانے اور سڑکوں پر عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔




