بنگلورو (فکروخبر نیوز): کرناٹک پبلک سروس کمیشن (KPSC) کے چیئرمین شیو شنکرپا ایس سہوکار کو گورنر تھاور چند گہلوت نے فوری طور پرمعطل کر دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی دو بیٹیوں کو سرکاری ملازمتوں میں منتخب کروانے کے عمل میں ضابطوں کی خلاف ورزی کی اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق حقائق کو مخفی رکھا۔
راج بھون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین کی زیرِ کفالت بیٹیاں کے پی ایس سی کے انتخابی عمل میں شریک تھیں، لیکن سہوکار نے نہ تو خود کو اس عمل سے الگ کیا اور نہ ہی اس بارے میں باضابطہ طور پر کمیشن یا حکومت کو مطلع کیا، جو آئینی اور انتظامی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
شکایات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیئرمین کی ایک بیٹی نے او بی سی زمرے کے تحت مراعات حاصل کرنے کے لیے اپنی خاندانی سالانہ آمدنی صرف 40 ہزار روپے ظاہر کی جبکہ حقیقی آمدنی اس حد سے کہیں زیادہ تھی۔ گورنر نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف مفادات کے ٹکراؤ بلکہ حقائق کو چھپانے اور ریزرویشن ضوابط کے غلط استعمال کا بھی معاملہ بنتا ہے۔
راج بھون نے مزید نشاندہی کی کہ سال 2002 کے ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق کے پی ایس سی کے چیئرمین کے بچوں کو پسماندہ طبقات کے کوٹے کے تحت ریزرویشن کی سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی بنیاد پر گورنر نے اس معاملے کو سنگین نوعیت کا قرار دیتے ہوئے آئینِ ہند کی دفعہ 317(1) کے تحت صدرِ جمہوریہ ہند سے سپریم کورٹ کے ذریعے تحقیقات کرانے کی سفارش کی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ چیئرمین کی معطلی گورنر کا آئینی اختیار ہے اور حکومت اس فیصلے پر عمل کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے سینئر ترین رکن کو عبوری طور پر چیئرمین کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی تاکہ ادارے کا کام متاثر نہ ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کے پی ایس سی کے اسسٹنٹ سکریٹری کی شکایت پر چیئرمین کی بیٹی سما ایس سہوکار کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ شیو شنکرپا سہوکار کو 2021 میں کے پی ایس سی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، تاہم تازہ الزامات اور تحقیقات کے پیشِ نظر انہیں عہدے سے الگ کر دیا گیا ہے۔




