بنگلورو: کرناٹک میں فرسٹ پری یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے کم از کم پاسنگ مارکس کو 35 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد کر دیا گیا ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی کرناٹک نے اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تبدیلی موجودہ تعلیمی سال سے نافذ العمل ہوگی۔
حکام کے مطابق اس فیصلے سے تقریباً چھ لاکھ طلبہ کو فائدہ پہنچے گا جو ہر سال فرسٹ پی یو کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں۔
محکمہ کے مطابق ایس ایس ایل سی اور پی یو سیکنڈ امتحانات کے برعکس، جہاں مرکزی سطح پر تشخیص کی جاتی ہے، فرسٹ پی یو کے جوابی پرچوں کی جانچ متعلقہ اسکول یا کالج کی سطح پر کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ جولائی 2025 میں ریاستی حکومت نے دسویں جماع اور پی یو سیکنڈ کے پاسنگ مارکس کو بھی 35 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد کر دیا تھا، جو مارچ 2026 کے امتحانات سے نافذ ہوا۔ اس اقدام کا مقصد ریاست کے گریڈنگ سسٹم کو قومی تعلیمی بورڈز، خصوصاً سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کے معیار کے مطابق بنانا بتایا گیا تھا۔
محکمہ کے تازہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فرسٹ پی یو میں بھی کم از کم پاس فیصد کو 33 کرنے کا فیصلہ تشخیصی نظام میں یکسانیت برقرار رکھنے اور طلبہ کے لیے تعلیمی معیار کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے تحت کرناٹک پری یونیورسٹی امتحان (تشخیص کا طریقہ) قواعد 2025 میں ترمیم کی جائے گی۔
محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر بھرت ایس نے کہا کہ چونکہ پی یو سیکنڈ کے لیے پاس فیصد 33 مقرر کیا گیا ہے، اسی طرز کو فرسٹ پی یوکے لیے بھی اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرسٹ پی یو کے امتحانات مکمل ہو چکے ہیں اور نتائج کا اعلان 31 مارچ تک متوقع ہے۔
دوسری جانب اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کرناٹک اسٹیٹ پری یونیورسٹی کالج لیکچررس ایسوسی ایشن کے صدر نینگ گوڈا اے ایچ نے کہا کہ یہ قدم مختلف تعلیمی بورڈز کے طلبہ کے درمیان برابری کا ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
