کرناٹک : الیکٹرک کاروں پر روڈ ٹکیس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری

بنگلورو: کرناٹک میں الیکٹرک گاڑیاں خریدنے والوں کے لیے آنے والے دنوں میں اخراجات بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ ریاستی حکومت بیٹری سے چلنے والی کاروں پر دی گئی 100 فیصد روڈ ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ یہ تجویز کرناٹک موٹر وہیکل ٹیکسیشن (ترمیمی) بل 2026 کا حصہ ہے، جسے مقننہ سے منظوری مل چکی ہے اور اب گورنر کی منظوری کا انتظار ہے۔

یہ فیصلہ 2016 سے جاری اس پالیسی میں بڑی تبدیلی ہوگا، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو سبز نقل و حرکت کے فروغ کے لیے مکمل ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی۔ تاہم نئی تجویز کے مطابق یہ رعایت صرف الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے لیے برقرار رکھی جائے گی، جبکہ کاروں پر ٹیکس لاگو ہوگا۔

مجوزہ نظام کے تحت گاڑیوں پر لائف ٹائم روڈ ٹیکس ان کی قیمت کے مطابق طے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق 10 لاکھ روپے تک کی الیکٹرک کاروں پر 5 فیصد، 10 سے 25 لاکھ روپے تک کی کاروں پر 8 فیصد، جبکہ 25 لاکھ روپے سے زیادہ قیمت والی گاڑیوں پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ رام لنگا ریڈی نے واضح کیا کہ یہ ٹیکس صرف نئی گاڑیوں کی خریداری پر لاگو ہوگا اور پرانی گاڑیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے سالانہ تقریباً 259 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی، جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے مالی سال 2026-27 کے لیے 15,500 کروڑ روپے کی وصولی کا ہدف رکھا ہے۔

اسی بل میں کمرشل گاڑیوں کے لیے کچھ راحت بھی تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت کنٹریکٹ کیریج بسوں اور سلیپر کوچز پر فی سیٹ ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاہم اس فیصلے سے کرناٹک میں الیکٹرک کاروں کی مانگ پر اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔